Bharat Express DD Free Dish

Sonam Wangchuk Hunger Strike: سونم وانگچک کو 20 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد پولیس لے گئی اسپتال ،مظاہرین سے جبراً  جنتر منتر بھی کرایا  خالی

نیٹ پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک اور دیگر تمام مظاہرین کو دہلی پولیس نے جنتر منتر سے  جبراً ہٹا دیا۔ اتوار کی صبح کی گئی اس کارروائی کے دوران دھرنا مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

قومی دارالحکومت دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 20 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو اتوار کی صبح دہلی پولیس نے احتجاجی مقام سے اسپتال منتقل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی طبیعت مسلسل خراب ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرانا ضروری ہو گیا تھا۔

بھاری پولیس نفری کی تعیناتی

ذرائع کے مطابق اتوار کی علی الصبح دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری جنتر منتر پہنچی اور پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کی اچانک کارروائی کے باعث احتجاجی مقام پر افراتفری اور کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔

صحت بگڑنے پر اسپتال منتقل

پولیس حکام کے مطابق سونم وانگچک گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے سخت بھوک ہڑتال پر تھے، جس کی وجہ سے ان کی صحت انتہائی تشویشناک ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں یہ بھی معلوم ہوا کہ طویل بھوک ہڑتال کے سبب ان کا وزن 9 کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا تھا اور جسم کے کئی اہم اعضا متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

طبی ایمرجنسی کا حوالہ

طبی ایمرجنسی اور قانون و انتظام کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے صبح سویرے سونم وانگچک کو ایمبولینس کے ذریعے قریبی سرکاری اسپتال منتقل کر دیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا معائنہ اور علاج کر رہی ہے۔

جنتر منتر مکمل طور پر خالی

پولیس کی کارروائی صرف وانگچک کو اسپتال لے جانے تک محدود نہیں رہی۔ جیسے ہی انہیں احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا، وہاں موجود لداخ کے سیکڑوں حامیوں اور دیگر مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی شروع کر دی۔ حالات کشیدہ ہوتے دیکھ  کرپولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا جبکہ دیگر کو موقع سے ہٹا کر جنتر منتر کو مکمل طور پر خالی کرا دیا۔

مظاہرین اور پولیس کے دعوے

مظاہرین کا الزام ہے کہ انتظامیہ ایک پرامن اور جمہوری احتجاج کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف عوامی سلامتی اور قانون و انتظام برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read