Bharat Express DD Free Dish

Iran US War: ایران نے شام، کویت اور عمان میں امریکی فوجی تنصیبات کو بنایا نشانہ

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،

نئی دہلی : ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام، کویت اور عمان میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد جوابی حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب کویتی فوج نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائیاں “آپریشن نصر-2” کے تحت کی گئیں، جن میں آپریشن کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں لہر شامل تھی۔ ایرانی فورس نے بتایا کہ گیارہویں مرحلے کا حملہ ایرانشہر کے علاقے بامپور میں شہید ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کیا گیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق اس کارروائی کے دوران شام کے الطنف علاقے میں قائم امریکی اسپیشل آپریشن کمانڈ سینٹر پر اچانک حملہ کیا گیا۔ آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے الگ بیان میں کہا کہ ایرانی افواج نے جوابی فوجی کارروائی کے دوران امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ایرانی دعوے کے مطابق ابتدائی حملے میں ایک میزائل دفاعی نگرانی ریڈار، امریکی اسلحہ کے متعدد ذخائر، دو HIMARS لانچر اور کئی میزائل تباہ کیے گئے۔ آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں کویت میں امریکی فوجیوں کی موجودگی والے ایک فوجی اڈے پر شدید آگ بھی بھڑک اٹھی۔

بعد ازاں جاری کیے گئے ایک اور بیان میں آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے عمان کے سلمہ پلیٹو میں قائم بحری نگرانی کے ریڈار اور غنم کے علاقے میں امریکی فضائی نگرانی کے ریڈار کو بھی کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔دوسری جانب کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر شہریوں کو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔ فوج نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل بھی آئی آر جی سی نے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ ایران کے مطابق ان کارروائیوں میں فوجی انفراسٹرکچر، طیاروں کے شیلٹرز، کمانڈ سینٹرز اور اسٹریٹجک ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جب کہ امریکی حکام کی جانب سے بھی ان حملوں اور نقصانات کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود تازہ پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read