نئی دہلی: مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ جمعرات کو نئی دہلی میں ملک کے تمام سرحدی اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹس (ایس پیز) کی ایک نہایت اہم اور اعلیٰ سطحی کانفرنس کی صدارت کریں گے۔ قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے انتہائی حساس سمجھی جانے والی اس میٹنگ میں سرحد پار دراندازی، غیر قانونی ہجرت، سرحدی علاقوں میں آبادی کے بدلتے رجحانات (ڈیموگرافی میں تبدیلی)، سرحدی سلامتی، پاکستانی ڈرونز سے لاحق خطرات اور بین الاقوامی سرحدوں کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
غیر قانونی ہجرت کے خلاف مرکز کی سخت حکمتِ عملی
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مرکزی حکومت غیر قانونی ہجرت کے خلاف ملک گیر مہم کو مزید تیز کر رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش سے متصل بین الاقوامی سرحد کے بھارتی اضلاع میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں، جنہیں قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔
سرحدی اضلاع کے ایس پیز پیش کریں گے زمینی رپورٹ
اس کانفرنس میں جموں و کشمیر، پنجاب، اتراکھنڈ، راجستھان، گجرات، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستوں سمیت تمام سرحدی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پولیس سپرنٹنڈنٹس شرکت کریں گے۔ اجلاس کے دوران تمام افسران اپنے اپنے اضلاع کی زمینی صورتِ حال، سلامتی کو درپیش نئے چیلنجز اور ان سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تجاویز وزیرِ داخلہ کے سامنے پیش کریں گے۔
آبادی میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سائنسی مطالعہ
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مرکزی حکومت نے چند ماہ قبل ملک کے مختلف حصوں میں آبادی کے بدلتے رجحانات کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کو غیر قانونی ہجرت، سرحدی علاقوں میں آبادی کے غیر معمولی پھیلاؤ، منظم نقل مکانی اور مختلف مذہبی و سماجی طبقات میں آبادی کے ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں کا سائنسی تجزیہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
امت شاہ کی سرحدی دوروں کے بعد سخت ہدایات
گزشتہ چند ماہ کے دوران وزیرِ داخلہ امت شاہ نے متعدد حساس سرحدی علاقوں کا دورہ کیا اور ضلع مجسٹریٹس (ڈی ایم) اور پولیس سپرنٹنڈنٹس (ایس پیز) کے ساتھ میٹنگیں کیں۔ ان اجلاسوں میں انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ غیر قانونی ہجرت کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں اور سرحدی علاقوں میں آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کے طویل مدتی اثرات کا مسلسل جائزہ لیں۔ انہوں نے سرحدی اضلاع میں قائم تمام غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر منہدم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
جعلی دستاویزات کے نیٹ ورک پر شکنجہ
انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق بعض غیر قانونی تعمیرات کو شدت پسندی پھیلانے کے مراکز یا غیر قانونی تارکینِ وطن کے عارضی ٹھکانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جہاں سے منظم نیٹ ورک کے ذریعے انہیں جعلی شناختی دستاویزات فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں اجلاس میں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مربوط کارروائی کی حکمتِ عملی بھی زیرِ غور آئے گی۔
سرحدی عوام کی ترقی اور باڑ بندی کا بھی جائزہ
اجلاس میں قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ سرحدی اضلاع میں رہنے والے شہریوں کی ترقی اور فلاحی منصوبوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق سرحدی علاقوں کے باشندے ملک کی سلامتی کی ’’پہلی دفاعی لائن‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ کے بڑھتے خطرات کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کے کام، خصوصاً مغربی بنگال کے حساس دریائی علاقوں میں جاری پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


