Bharat Express DD Free Dish

US-Iran’s Historic MoU: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کو بتایا ’’تاریخی دستاویز‘‘، کہا-’’باہمی احترام ہی پائیدار امن کی بنیاد‘‘

تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو ’’تاریخی دستاویز‘‘ اور ’’طاقتور ایران کا پیغام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن صرف باہمی احترام کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر اس دستاویز کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’امن باہمی احترام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران اپنی عزت، وقار اور خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔‘‘ پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران نے ہمیشہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی امن کے فروغ کی مستقل حمایت کی ہے۔

فرانس میں ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جی-7 سربراہ اجلاس کے موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کی میزبانی میں ورسائے محل میں منعقدہ عشائیے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کی دستاویز صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کی۔ دستخط سے قبل ٹرمپ نے کہا: ’’یہ آسان نہیں تھا۔‘‘ دستخط کے بعد ٹرمپ نے معاہدے کی دستاویز وہاں موجود شرکاء کو دکھائی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے دستخط شدہ معاہدے کی تصویر ایران بھیجی، جس کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس پر دستخط کیے۔

میکروں نے معاہدے کا خیر مقدم کیا

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے بھی ایکس پر اپنے پیغام میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: ’’صدر ٹرمپ نے آج رات ورسائے میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ پائیدار امن کی راہ ہموار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔‘‘ یہ معاہدہ کئی ماہ کی علاقائی کشیدگی، جس میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیاں بھی شامل تھیں، کے بعد سامنے آیا ہے۔  سرکاری طور پر’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے ریاستہائے متحدہ امریکہ و اسلامی جمہوریہ ایران‘‘ کے عنوان سے جاری اس دستاویز میں علاقائی جنگ بندی، اقتصادی تعاون میں توسیع، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ سفارتی مذاکرات کے لیے ایک جامع فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔

کئی نکات پر اب بھی ابہام برقرار

تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔

ورسائے محل کی تاریخی اہمیت

قابل ذکر ہے کہ ورسائے محل (Palace of Versailles) ماضی میں بھی کئی اہم عالمی معاہدوں کا مرکز رہا ہے، جہاں بڑی جنگوں اور سرحدی تنازعات کے خاتمے کے لیے تاریخی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ خصوصاً 1919 کا معاہدۂ ورسائے اسی مقام پر طے پایا تھا، جس کے ذریعے پہلی عالمی جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔ مؤرخین کے مطابق اس معاہدے میں جرمنی پر عائد سخت شرائط نے بعد میں پیدا ہونے والے سیاسی اور معاشی بحران کو جنم دیا، جس نے دوسری عالمی جنگ کی راہ ہموار کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read