نئی دہلی: بی جے پی چھوڑنے اورنئی پارٹی بنانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان تمل ناڈو بی جے پی کے سابق صدرکے انّاملائی نے پارٹی ہیڈ کوارٹرمیں بی جے پی کے قومی صدرنتن نبین اورتنظیمی سکریٹری بی ایل سنتوش سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق، ان کے نئے رول سے متعلق تبادلہ خیال ہوا ہے۔ پارٹی قیادت کی طرف سے ان کوکہا گیا کہ پارٹی ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کوذمہ داری دیتے آئی ہے اورآگے بھی اس کے مطابق ان کوذمہ داری دی جائے گی۔
کیا راجیہ سبھا جائیں گے انّا ملائی؟
ذرائع کے مطابق، وہ بی جے پی کے دیگرسینئرلیڈران سے بھی ملاقات کرسکتے ہیں۔ انّاملائی کا دہلی دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب ان کے سیاسی مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ کے انّاملائی کے بی جے پی چھوڑکرنئی پارٹی بنانے کی قیاس آرائیوں کے علاوہ پارٹی کے ذریعہ ان کو راجیہ سبھا سیٹ کی پیشکش کئے جانے کی بھی قیاس آرائی ہے۔ اس درمیان دہلی روانہ ہونے سے پہلے کے انّاملائی نے اپنے بارے میں چل رہی قیاس آرائیوں پر تفصیل سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ برائے مہربانی انتظار کریں۔ ہم دو دن میں بیٹھ کربات کریں گے۔ اس تبصرہ نے ممکنہ اعلان سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دے دی۔
سال 2020 میں بی جے پی میں ہوئے شامل
سابق آئی پی ایس افسر کے انّا ملائی سال 2020 میں بی جے پی میں شامل ہوئے اورتیزی سے تمل ناڈومیں پارٹی کے سب سے اہم لیڈران میں سے ایک بن گئے۔ سال 2021 سے 2025 تک ریاستی بی جے پی کے صدرکے طورپرانہوں نے کئی ریاستی مہم کی قیادت کی اورنوجوان رائے دہندگان اورسوشل میڈیا فالورس کے درمیان ایک مضبوط حمایت کی بنیاد بنائی۔
کیوں ہو رہی ہے بی جے پی چھوڑنے کی قیاس آرائی؟
سال 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی الیکشن کے بعد ان کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں تیزہوگئیں، جس میں بی جے پی کے سب سے مشہورچہروں میں سے ایک ہونے کے باوجود انہوں نے الیکشن نہیں لڑا۔ کلاس 9 کے طلبا کے لئے تین زبانوں سے متعلق پالیسی کوآگے بڑھانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کی ان کے ذریعہ حالیہ تنقید نے بھی سیاسی بحث چھیڑدی اورپارٹی قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق نئی افواہیں پیدا کردیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
