مئوکے سابق رکن اسمبلی مرحوم مختارانصاری کے بیٹے اورمئو صدر کے رکن اسمبلی عباس انصاری کے پیرکومئودورے سے ضلع کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کردی۔ سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی لے کرایس پی-ڈی ایم سے ملاقات کرنے کے بعد ان کا سیدھے سماجوادی پارٹی کے دفترپہنچنا سیاسی گلیاروں میں بڑے اشارے کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ سہیل دیوبھارتیہ سماج پارٹی سے رکن اسمبلی ہونے کے باوجود اتحادی دفترسے دوری اورسماجوادی پارٹی کے لیڈران کے درمیان تقریباً 4 گھنٹے تک موجودگی نے اس بحث کومزید تیزکردیا کہ کیا عباس انصاری مستقبل میں سماجوادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں؟
مئوکی سیاست پیر (18 مئی) کواس وقت اچانک گرما گئی، جب صدررکن اسمبلی اورمرحوم مختارانصاری کے بیٹے عباس انصاری بڑی سیکورٹی کے درمیان تقریباً نصف درجن گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ ضلع میں پہنچے۔ سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی لے کرانہوں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کملیش بہادراورڈی ایم آنند وردھن سے ملاقات کرکے اپنے دورے کی مستقل جانکاری دی۔
انتظامی میٹنگوں سے زیادہ بحث ان کے اگلے اقدام پرمرکوزتھی۔ عہدیداروں سے ملاقات کے بعد عباس انصاری سیدھے سماج وادی پارٹی کے دفترچلے گئے۔ وہاں انہوں نے میڈیا نمائندوں سمیت سماج وادی پارٹی کے تمام کارکنوں کولسّی پیش کی اوردفترکی تزئین وآرائش کا حکم بھی دیا۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ سہیل دیوبھارتیہ سماج پارٹی (سبھاسپا) اوربی جے پی اتحاد کا دفتر ایک ہی کمپلیکس میں آمنے سامنے واقع ہونے کے باوجود انہوں نے وہاں جانا مناسب نہیں سمجھا۔ اسے لے کرسیاسی حلقوں میں طرح طرح کے سیاسی مطلب نکالے جا رہے ہیں۔
کارکنان اورحامیوں میں جوش کا ماحول
سماجوادی پارٹی کے دفترمیں ان کے پہنچتے ہی کارکنان اورحامیوں میں جوش کا ماحول بن گیا۔ ضلع صدر سمیت کئی لیڈران نے ان کا استقبال کیا۔ تقریباً 4 گھنٹے تک چلی ملاقاتوں اورسیاسی قیاس آرائیوں نے یہ اشارہ دیا کہ آنے والے وقت میں مئو کی سیاست میں نئے حالات بن سکتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ سال 2027 اسمبلی الیکشن سے پہلے عباس انصاری اپنی نئی سیاسی زمین تلاش کرنے کی حکمت عملی پرکام کررہے ہیں۔ اس دوران عباس انصاری میڈیا کے سوالوں سے بچتے ہوئے نظرآئے۔ عباس انصاری اس دوران کبھی اپنے بالوں میں کنگھی کرتے اورکبھی داڑھی پرہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کا براہ راست جواب دینے سے گریزکیا۔ بعض اوقات انہوں نے میڈیا اہلکاروں سے سوالات پوچھ کرگفتگوکوموڑنے کی کوشش کی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


