دھار: بھوج شالہ-کمال مولا کمپلیکس سے متعلق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اتوار کو ہندو عقیدت مندوں نے کمپلیکس میں ہون اور پوجا کا اہتمام کیا۔ بھوج شالہ مکتی یگیہ کے کنوینر گوپال شرما نے دعویٰ کیا کہ اب اس مقام کو ’’ماں سرسوتی کنٹھ بھرن‘‘ کے نام سے جانا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو سماج گزشتہ 720 برس سے اس مقام کو مندر کے طور پر تسلیم کرانے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ہون اور پوجا
گوپال شرما کے مطابق عدالت نے برطانوی دور میں لندن لے جائی گئی مورتی کو دوبارہ بھوج شالہ میں نصب کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کے بعد علامتی مورتی نصب کر کے پوجا اور ہون کا آغاز کیا گیا، جو دن بھر جاری رہے گا۔ شرما نے مزید دعویٰ کیا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے بھوج شالہ کو ہندو مندر کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے مسلم فریق کو نماز کے لیے متبادل انتظامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ساوتری ٹھاکر نے فیصلے کو تاریخی قرار دیا
مرکزی وزیر ساوتری ٹھاکر نے بھی بھوج شالہ پہنچ کر پوجا میں حصہ لیا اور عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ہندو برادری کو مستقل طور پر عبادت کی اجازت دے دی ہے، جس پر عوام مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس دوران دھار کے کلکٹر راجیو رنجن مینا نے بتایا کہ مقام پر تمام انتظامات عدالت اور ASI کی ہدایات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
سکیورٹی سخت، سپریم کورٹ میں چیلنج کی تیاری
دھار کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سچن شرما نے کہا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو عدالت کے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا جا رہا ہے اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ مسلم فریق کی جانب سے فیصلے کو چیلنج کرنے کے پیش نظر سپریم کورٹ آف انڈیا میں دو کیویٹ عرضیاں بھی دائر کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہا تھا کہ متنازع بھوج شالہ-کمال مولا کمپلیکس بنیادی طور پر راجہ بھوج کی بھوج-پرمار سلطنت کے دور کا دیوی واگ دیوی (سرسوتی) کا مندر ہے۔ عدالت نے ASI کے 2003 کے اس حکم کو بھی جزوی طور پر منسوخ کر دیا، جس کے تحت مسلم برادری کو جمعہ کے روز وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


