نئی دہلی : چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بے روزگار نوجوان ’’کاکروچ‘‘ کی طرح ہو جاتے ہیں اور پھر نظام پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد قانونی اور سماجی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔یہ تبصرہ ایک ایسے معاملے کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں ایک وکیل نے سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ دیے جانے سے متعلق درخواست دائر کی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے درخواست گزار وکیل کو سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ حاصل کرنے کے لیے جارحانہ انداز میں مہم چلانے پر سخت سرزنش کی۔
عدالت نے وکیل کے پیشہ ورانہ رویے پر بھی سوال اٹھائے۔ سماعت کے دوران ان کے سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک پر کیے گئے مبینہ تبصروں اور زبان کے استعمال پر بھی اعتراض ظاہر کیا گیا۔ بنچ نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’دنیا میں بہت سے لوگ سینئر بننے کے اہل ہو سکتے ہیں، لیکن کم از کم آپ اس کے مستحق نہیں ہیں۔‘‘چیف جسٹس سوریہ کانت نے یہاں تک کہا کہ اگر دہلی ہائی کورٹ درخواست گزار کو سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ دے بھی دیتی ہے تو سپریم کورٹ اس کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے اس فیصلے کو منسوخ کر دے گی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے میں پہلے ہی ایسے ’’پیراسائٹس‘‘ موجود ہیں جو ہر وقت سسٹم پر حملے کرتے رہتے ہیں اور آپ ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے مزید کہا کہ ’’کچھ نوجوان ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی پیشے میں جگہ، پھر ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بن جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن اور دیگر سرگرم کارکن بن کر ہر کسی پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔‘‘عدالت نے واضح کیا کہ سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ کسی وکیل کو اس کی قابلیت اور خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، نہ کہ ایسی چیز جس کے لیے جارحانہ مہم چلائی جائے۔ بنچ نے سوال اٹھایا کہ کیا اب سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ صرف ایک نمائشی اعزاز بن کر رہ گیا ہے، جسے لوگ صرف سجاوٹ کے طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
سپریم کورٹ نے درخواست گزار سے یہ بھی پوچھا کہ کیا اس کے پاس کوئی اور مقدمات نہیں ہیں اور کیا اس طرح کا رویہ کسی ایسے شخص کے لیے مناسب ہے جو سینئر ایڈووکیٹ بننے کا خواہش مند ہو۔سماعت کے دوران عدالت نے کئی وکلا کی ڈگریوں کی صداقت پر بھی تشویش ظاہر کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کئی وکلا کی تعلیمی اسناد کی اصلیت پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ اس معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرائی جائے۔انہوں نے بار کونسل آف انڈیا پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کرے گی کیونکہ ’’انہیں اپنے ووٹوں کی ضرورت ہے۔‘‘عدالت کے سخت ریمارکس کے بعد درخواست گزار وکیل نے بنچ سے معافی مانگی اور اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کی، جسے سپریم کورٹ نے منظور کر لیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


