Bharat Express DD Free Dish

Padma Awardee Shashi Soni Reaction: وزیر اعظم مودی کی اپیل ممکنہ بحران سے پہلے دوراندیشی پر مبنی انتباہ ہے: پدم ایوارڈ یافتہ ششی سونی

پدم ایوارڈ یافتہ صنعت کار ششی سونی نے کہا کہ دنیا بھر میں بدلتے حالات، جنگوں، معاشی غیر یقینی اور قدرتی آفات کے تناظر میں بھارت کو مضبوط اور خود کفیل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے عوام سے جو اپیل کی ہے، اس کا مقصد لوگوں میں گھبراہٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ اجتماعی شعور بیدار کرنا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی بڑا بحران پیدا ہو تو ملک اس کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

بنگلورو: پدم ایوارڈ یافتہ صنعت کار ششی سونی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ عوامی اپیل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے ملک کو درپیش ممکنہ عالمی بحرانوں کے پیش نظر ایک دوراندیش اور بروقت قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اپیل خوف پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ ملک کو ہر ممکن صورتحال کے لیے پہلے سے تیار رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ منگل کو خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ششی سونی نے کہا کہ دنیا بھر میں بدلتے حالات، جنگوں، معاشی غیر یقینی اور قدرتی آفات کے تناظر میں بھارت کو مضبوط اور خود کفیل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے عوام سے جو اپیل کی ہے، اس کا مقصد لوگوں میں گھبراہٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ اجتماعی شعور بیدار کرنا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی بڑا بحران پیدا ہو تو ملک اس کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

ششی سونی نے کہا، ”وزیر اعظم کی اپیل دراصل طوفان آنے سے پہلے کی وارننگ ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں جاری ہیں، کہیں معیشت دباؤ میں ہے اور کہیں قدرتی آفات حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کو پہلے سے تیار رکھیں“۔ انہوں نے سونے کی خریداری سے متعلق وزیر اعظم کے مشورے کی بھی حمایت کی۔ ششی سونی کے مطابق اگر لوگ غیر ضروری طور پر سونا خرید کر گھروں میں جمع کرنا کم کریں گے تو اس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو شادی یا ضروریات کے لیے سونا خریدنا ہے، وہ ضرور خریدیں، لیکن بڑے پیمانے پر سونا ذخیرہ کرنے کا رجحان معیشت پر دباؤ ڈالتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی سرمایہ معیشت کے فعال شعبوں میں گردش کرے تو ملک زیادہ مضبوط بن سکتا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی بچت پر زور دیتے ہوئے ششی سونی نے کہا کہ توانائی کے وسائل کا محتاط استعمال وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک ہی خاندان کے افراد الگ الگ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، جس سے ایندھن کا بے جا استعمال ہوتا ہے۔ اگر لوگ ایک گاڑی شیئر کریں، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھائیں اور غیر ضروری سفر کم کریں تو اس سے نہ صرف ایندھن بچے گا بلکہ ملک کو درآمدی دباؤ سے بھی راحت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر شخص فوری طور پر الیکٹرک گاڑی نہیں خرید سکتا، لیکن مشترکہ سفر جیسے طریقے اپنا کر کافی حد تک بچت ممکن ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مختلف شہروں میں میٹرو، بس اور دیگر عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولتیں فراہم کی ہیں، جن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ششی سونی نے تعلیمی اداروں اور دفاتر کے حوالے سے بھی وزیر اعظم کی تجاویز کو عملی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران آن لائن تعلیم اور ورک فرام ہوم کا نظام کامیابی سے چلایا گیا تھا، اس لیے ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آئی ٹی اور دیگر ایسے شعبے جہاں گھر سے کام ممکن ہے، وہاں ملازمین کے دفتر نہ آنے سے نہ صرف پٹرول اور ڈیزل کی بچت ہوگی بلکہ بجلی، پانی اور دیگر وسائل کا استعمال بھی کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بطور صنعت کار انہوں نے خود دیکھا ہے کہ محدود وسائل کے بہتر استعمال سے کتنی بڑی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جانے چاہئیں۔

ششی سونی نے مزید کہا کہ بھارت نے ماضی میں بھی جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کیا ہے اور ہر بار مضبوطی کے ساتھ ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کو محسوس ہوتا ہے کہ ملک کو پہلے سے تیار رکھنا ضروری ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہ ذمہ دار قیادت کی علامت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہر گھر تھوڑی تھوڑی بچت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو پورا ملک مضبوط ہو سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں اور ایسے وقت میں پوری قوم کو متحد ہو کر ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ بھارت ہر ممکن بحران کا مضبوطی سے مقابلہ کر سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read