کولکاتا: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر سویندو ادھیکاری نے جمعہ کے روز کولکاتا کے راج بھون میں گورنر آر این روی سے ملاقات کی اور ریاست میں حکومت بنانے کا باضابطہ دعویٰ پیش کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ دلیپ گھوش، لاکٹ چٹرجی اور تاپس رائے سمیت کئی اہم لیڈر بھی موجود تھے۔ بی جے پی کی جانب سے جاری سیاسی پیش رفت کے مطابق سویندو ادھیکاری کو پہلے ہی پارٹی قانون ساز کا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں ہونے والی بی جے پی ایم ایل اے میٹنگ میں ان کے نام پر اتفاق رائے ہوا، جس کے بعد ان کا مغربی بنگال کا نیا وزیر اعلیٰ بننا تقریباً طے تصور کیا جا رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سویندو ادھیکاری 9 مئی کو رابندر جینتی کے موقع پر کولکاتا کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کو بی جے پی ایک بڑے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں سویندو ادھیکاری کو اس عہدے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار اس وقت سے سمجھا جا رہا تھا جب انہوں نے بھوانی پور اسمبلی حلقے سے ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کو تقریباً 15 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔ یہ نشست ریاست کی سب سے ہائی پروفائل نشستوں میں شمار ہوتی ہے۔
دوسری جانب سیاسی صورتحال اس وقت مزید بدل گئی جب گورنر آر این روی نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے بعد ممتا بنرجی باضابطہ طور پر مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ بن چکی ہیں۔ ساتھ ہی ان کی قیادت میں کام کرنے والی کابینہ بھی خود بخود تحلیل ہو گئی ہے۔ انتخابات کے بعد 5 مئی کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ممتا بنرجی نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ گورنر کو استعفیٰ دینے کی روایت پر عمل نہیں کریں گی کیونکہ ان کے مطابق سرکاری نتائج عوامی رائے کی حقیقی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ نہ وہ پوری ریاست میں ترنمول کانگریس کی شکست کو تسلیم کرتی ہیں اور نہ ہی بھوانی پور حلقے میں اپنی ذاتی ہار کو قبول کرتی ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق مغربی بنگال میں یہ تبدیلی ریاستی سیاست میں ایک بڑے موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ بی جے پی قیادت کا دعویٰ ہے کہ نئی حکومت عوامی اعتماد کی بنیاد پر کام کرے گی، جبکہ ترنمول کانگریس کی جانب سے انتخابی نتائج پر تحفظات بدستور برقرار ہیں۔ گورنر سے ملاقات کے بعد سویندو ادھیکاری کے دعوے نے ریاستی سیاست میں ہلچل مزید بڑھا دی ہے اور اب سب کی نظریں حلف برداری کی تقریب اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


