چنئی: تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات نے سیاسی حلقوں اور ایگزٹ پولز کے اندازوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ریاست کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور وہ تیسرے نمبر پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے بعد چنئی میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر ’’انا آریوالیم‘‘ میں جشن کے لیے لگائے گئے خیمے ہٹائے جانے لگے ہیں۔
#WATCH | Tamil Nadu Assembly Elections | Tents are being removed from Anna Arivalayam, the DMK headquarters in Chennai, as the early trends show DMK at a distant third position.
TVK is leading on 45, AIADMK on 41 and DMK on 19 seats, as per early trends. pic.twitter.com/7xPojVMKcQ
— ANI (@ANI) May 4, 2026
ٹی وی کے کی حیران کن برتری
اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی پارٹی تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 100 سے زائد نشستوں پر برتری حاصل کر لی ہے اور ریاست کی سب سے بڑی سیاسی طاقت کے طور پر ابھرتی نظر آ رہی ہے۔ اگر یہی رجحانات حتمی نتائج میں تبدیل ہوتے ہیں تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی ہوگی، جس طرح ماضی میں سی این انادورائی (1967) اور ایم جی راماچندرن (1977) کے دور میں دیکھی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ اسٹالن اپنی نشست پر پیچھے
ریاست کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن بھی اپنی کولاتور اسمبلی نشست پر پیچھے چل رہے ہیں۔ ابتدائی پانچ راؤنڈ کی گنتی کے بعد وہ ٹی وی کے امیدوار وی ایس بابو سے تقریباً ڈھائی ہزار ووٹوں کے فرق سے پیچھے ہیں، جو کہ ڈی ایم کے کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ سمجھا جا رہا ہے۔ تریچی (مشرقی) نشست سے وجے خود بھی تین راؤنڈ کے بعد پانچ ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے ہیں۔ دوسری جانب اے آئی اے ڈی ایم کے کے سربراہ ایڈاپڈی کے پلانی سامی اپنی نشست پر 7003 ووٹوں کی مضبوط برتری کے ساتھ آگے چل رہے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مقابلہ اب بھی کئی سطحوں پر جاری ہے۔
ایگزٹ پولز غلط ثابت
ڈی ایم کے کی کمزور کارکردگی نے ان بیشتر ایگزٹ پولز کو غلط ثابت کر دیا ہے جن میں اسے واضح برتری دکھائی گئی تھی۔ ان اندازوں کی بنیاد ایم کے اسٹالن کی حکومت کے پانچ سالہ دور میں کیے گئے فلاحی اقدامات اور “دراوڑی ماڈل” کو بنایا گیا تھا، تاہم ابتدائی نتائج اس کے برعکس منظر پیش کر رہے ہیں۔ ابتدائی رجحانات کے بعد ڈی ایم کے کے حامی مایوسی کے عالم میں پارٹی دفتر سے واپس لوٹتے نظر آئے، جبکہ ٹی وی کے کی بڑھتی ہوئی برتری نے ریاست کی سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی کر دی ہے۔ تاہم حتمی نتائج آنے تک صورتحال میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

