بھارتی وقت کے مطابق 22 اپریل کو نیپال کے نو منتخب وزیر داخلہ سُدان گروُنگ نے منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے علاوہ لیبر وزیر کمار شاہ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں ہٹا دیا گیا۔ سُدان گروُنگ کے استعفے کے بعد پارٹی کے اندر بھی اختلافات سامنے آنے لگے، جس کے بعد وزیر اعظم بالیندر شاہ کے حکم پر انہوں نے استعفیٰ دیا۔
بالیندر شاہ کی حکومت قائم ہوتے ہیں سیاسی بے چینی
ستمبر 2025 میں نیپال میں سابق وزیر اعظم کے پی اولی کی حکومت کے خلاف ’جین-زی‘ تحریک نے احتجاج شروع کیا تھا۔ یہ احتجاج سوشل میڈیا پر پابندی، بدعنوانی، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف شروع ہوا تھا جو بعد میں پرتشدد ہو گیا اور سابق حکومت کے خاتمے کا باعث بنا۔اس کے بعد انتخابات کے ذریعے بالیندر شاہ کی حکومت قائم ہوئی۔ تاہم حکومت بننے کے بعد ایسے کئی فیصلے کیے گئے جن سے سیاسی بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
کسٹم ڈیوٹی نافذ کرنے کے اعلان سے شدید ردعمل
حالیہ طور پر بالیندر شاہ حکومت نے نیپال-بھارت سرحد پر کسٹم ڈیوٹی نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس فیصلے کے تحت بھارت سے نیپال لائے جانے والے 100 روپے سے زائد مال پر ڈیوٹی لگائی جائے گی۔ سرحدی علاقوں میں تلاشی اور جانچ کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جس سے عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ تنازع صرف ایک فیصلے تک محدود نہیں بلکہ معاشی پالیسیوں، حکمرانی کے خدشات اور بدعنوانی کے الزامات نے بھی عوامی غصے کو بڑھایا ہے۔
طلبہ سیاست پر پابندی بھی بڑے احتجاج کی وجہ
اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے طلبہ سیاست پر پابندی بھی بڑے احتجاج کی وجہ بنی ہے۔ بالیندر شاہ نے عہدہ سنبھالتے ہی سیاسی جماعتوں سے وابستہ اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد تعلیمی اداروں میں طلبہ میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گئے ہیں۔طلبہ لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے بات چیت کے بجائے پابندی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کی نمائندگی کو محفوظ رکھا جائے۔کے پی اولی حکومت کے خلاف نوجوانوں نے اسی امید پر بالیندر شاہ کی حمایت کی تھی کہ وہ بدعنوانی اور عوامی مسائل پر کام کریں گے، لیکن حالیہ فیصلوں نے ان کی قیادت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔خاص طور پر کسٹم ڈیوٹی کے فیصلے نے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو متاثر کیا ہے، جو روزمرہ ضروریات جیسے راشن، ادویات اور دیگر سامان کے لیے بھارتی بازاروں پر انحصار کرتے ہیں۔حالات کو دیکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ آیا بالیندر شاہ کی حکومت عوامی توقعات پر پوری اتر سکے گی یا نیپال ایک بار پھر سیاسی بے چینی کے دور میں داخل ہو جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

