نئی دہلی: ایران کی جانب سے دو جہاز ضبط کیے جانے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت رک گئی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کو لے کر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ضبط کیے گئے جہازوں میں ایک گجرات کے کاندلہ بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اس لیے اس پیش رفت نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، کروڈ 103 ڈالر سے اوپر
اس صورتحال کا اثر جمعرات کو تیل کی قیمتوں پر واضح طور پر دیکھا گیا، جہاں برینٹ کروڈ 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ ماہرین کے مطابق سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات نے قیمتوں میں اس اضافے کو ہوا دی ہے۔ بھارت اپنی ایل پی جی کا بڑا حصہ اور تقریباً 50 فیصد خام تیل خلیج فارس سے درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش کا براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے درآمدی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور ایل پی جی کی گھریلو پیداوار بڑھانے پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ صارفین قدرتی گیس، کوئلہ اور برقی چولہوں جیسے متبادل ذرائع کی طرف بھی رجوع کر رہے ہیں۔
ایران کا موقف—ناکابندی ختم ہوئے بغیر راستہ نہیں کھلے گا
ایران کے اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں امریکی بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی کارروائیوں کو اس کشیدگی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکیاں اور ناکہ بندی حقیقی بات چیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ دریں اثنا، بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر ’’دیش گرما‘‘ بحفاظت ممبئی پہنچ گیا، جسے بھارتی بحریہ نے سکیورٹی فراہم کی۔ حکومت ہند نے عوام کو راحت دینے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی بھی کی ہے، جبکہ ملک بھر میں فی الحال ایندھن کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی بدستور جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



