Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis: خلیج عمان میں امریکی بحریہ کی ایرانی جہاز پر فائرنگ، ایران نے جوابی کارروائی کی دی دھمکی

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ایرانی عملے نے انتباہ نظر انداز کیا، جس کے بعد امریکی بحری جہاز نے انجن روم کو نشانہ بنا کر جہاز کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی میرینز نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے

نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے خلیجِ عمان میں ایرانی پرچم بردار ایک مال بردار جہاز پر فائرنگ کرکے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جس کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹورتھ سوشل پر لکھا کہ “ایران کے جھنڈے والا ‘ٹی او یو ایس کے اے’ نامی کارگو جہاز، جو تقریباً 900 فٹ طویل اور وزن میں ایک طیارہ بردار جہاز کے برابر تھا، نے امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے اسے رکنے کی واضح وارننگ دی۔”

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ایرانی عملے نے انتباہ نظر انداز کیا، جس کے بعد امریکی بحری جہاز نے انجن روم کو نشانہ بنا کر جہاز کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی میرینز نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔ڈونلڈ  ٹرمپ کے مطابق اس جہاز پر پہلے سے امریکی مالی پابندیاں بھی عائد تھیں۔دوسری جانب ایران کی مسلح افواج نے اس کارروائی کو “سمندری ڈکیتی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ کے ٹیلیگرام چینل پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خلیجِ عمان میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کیا۔

ایرانی فوج کے مطابق امریکی افواج نے جہاز کے نیویگیشنل آلات کو تباہ کیا اور ڈیک پر اپنے فوجی تعینات کر دیے۔ بیان میں کہا گیا کہ “اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج جلد ہی امریکہ کی اس مسلح سمندری کارروائی کا جواب دے گی۔”اس سے قبل ڈونلڈٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی نمائندہ وفد ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ وفد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیراڈ کشنر شامل ہوں گے۔ادھر ایرانی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تہران سے بھی ایک وفد منگل کو پاکستان پہنچ سکتا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایرانی میڈیا نے اس بات پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ آیا ایران نے مذاکرات کے لیے حتمی منظوری دی ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read