Bharat Express DD Free Dish

Protesting Against Opposition: خواتین ریزرویشن بل تنازع پر بی جے پی کا احتجاج، کئی لیڈران حراست میں، دہلی پولیس نے کیا واٹرکینن کا استعمال

احتجاج کے دوران بی جے پی خواتین اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ جن لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ان میں مرکزی وزیرمملکت رکشا کھڈسے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج اور کمل جیت سہراوت شامل ہیں۔

نئی دہلی: خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پاس نہ ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی تناظر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی خواتین اراکین پارلیمنٹ نے ہفتہ کے روز احتجاج کیا، جس کے دوران دہلی پولیس نے کئی لیڈروں کو حراست میں لے لیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال بھی کیا۔ یہ احتجاج نئی دہلی میں اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب بی جے پی کی خواتین اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ پولیس نے صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

بی جے پی رہنماؤں کی گرفتاری

احتجاج کے دوران جن لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ان میں مرکزی وزیرمملکت رکشا کھڈسے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج اور کمل جیت سہراوت شامل ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر پارٹی کارکنان اور خواتین رہنما بھی احتجاج میں شریک تھیں۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے نہ صرف رکاوٹیں کھڑی کیں بلکہ واٹر کینن کا استعمال بھی کیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی مظاہرین بڑی تعداد میں موجود تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے۔ یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب خواتین کے لیے پارلیمنٹ میں ریزرویشن نافذ کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ ووٹنگ کے دوران 298 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جس کے باعث بل مسترد ہو گیا۔ بی جے پی نے اس معاملے کو خواتین کے حقوق سے جوڑتے ہوئے اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس، پر شدید تنقید کی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے کے موقع کو ضائع کیا ہے۔

بی جے پی کا اپوزیشن پر حملہ

احتجاج کے دوران بی جے پی کارکنان نے اپوزیشن کے خلاف نعرے بازی کی اور راہل گاندھی کا پتلہ بھی نذر آتش کیا۔ پارٹی نے اپوزیشن کے رویے کو ’’خواتین مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ملک بھر کی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیمامالنی نے بھی احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ملک بھر میں اس معاملے پر آواز اٹھا رہی ہیں اور بل کی ناکامی پر شدید ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے پوری کوشش کی، لیکن اپوزیشن نے بل کو پاس نہیں ہونے دیا۔‘‘ اسی طرح بانسری سوراج نے اپوزیشن پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کے ساتھ ’’دھوکا‘‘ کیا ہے اور ان کے حقوق کو نظر انداز کیا ہے۔

کانگریس کا کیا ہے موقف؟

دوسری جانب کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ خواتین کے ریزرویشن کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس بل کے ساتھ منسلک حلقہ بندی (Delimitation) کے عمل پر اعتراض رکھتی ہے۔ پارٹی کے مطابق مجوزہ حلقہ بندی سے لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ ہو کر 815 تک پہنچ جائے گا، جس سے جنوبی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس عمل کے ذریعے سیاسی توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اسی لیے انہوں نے بل کی مخالفت کی۔ اس پورے معاملے نے ملک کی سیاست کو مزید گرم کر دیا ہے۔ بی جے پی اس مسئلے کو عوام کے درمیان لے جانے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اپنے موقف پر قائم ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی آنے والے انتخابات میں ایک بڑا انتخابی مسئلہ بن سکتی ہے، جس پر دونوں فریق عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read