نئی دہلی: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا اور 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا، جس کے بعد سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو گیا ہے۔ اس اہم بل پر ہونے والی ووٹنگ میں 528 اراکین نے حصہ لیا، جن میں سے 298 نے بل کی حمایت کی جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے، جو حاصل نہ ہو سکے۔ یہ بل، جسے 131واں آئینی ترمیمی بل کہا جا رہا تھا، میں لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کو بڑھا کر 850 کرنے اور اسے حدبندی (ڈیلیمیٹیشن) کے عمل سے جوڑنے کی تجویز شامل تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ اپوزیشن نے اسے جمہوری ڈھانچے میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔
بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔ امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کے حقوق کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر ایک تاریخی موقع ضائع کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی خواتین اس فیصلے کو بھولیں گی نہیں اور آئندہ انتخابات میں اس کا جواب دیں گی۔ ان کے مطابق 2029 کے لوک سبھا انتخابات سمیت ہر سطح پر اپوزیشن کو خواتین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امت شاہ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے اور سماجوادی پارٹی نے مل کر اس بل کو منظور ہونے سے روکا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینا ان کا حق تھا، مگر اپوزیشن نے اسے چھین لیا۔
आज लोकसभा में बहुत अजीब दृश्य दिखा।
नारी शक्ति वंदन अधिनियम के लिए जरूरी संविधान संशोधन बिल को कांग्रेस, TMC, DMK और समाजवादी पार्टी ने पारित नहीं होने दिया। महिलाओं को 33% आरक्षण देने के बिल को गिरा देना, उसका उत्साह मनाना और जयनाद करना सचमुच निंदनीय और कल्पना से परे है।
अब…
— Amit Shah (@AmitShah) April 17, 2026
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بل میں کئی خامیاں تھیں اور اسے عجلت میں پیش کیا گیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حدبندی اور نشستوں میں اضافے جیسے بڑے معاملات کو مزید غور و خوض کے بعد ہی نافذ کیا جانا چاہیے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بل کے مسترد ہونے سے نہ صرف پارلیمنٹ میں کشیدگی بڑھی ہے بلکہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ملک کی سیاست کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے۔ خواتین ریزرویشن جیسے حساس مسئلے پر اختلافات نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج مزید گہری ہو چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

