Bharat Express DD Free Dish

Women’s Reservation Bill 2026: پارلیمنٹ میں مسلم خواتین کی ریزرویشن پر چھڑگئی جنگ، اکھلیش یادونے کہا، کیا مسلم خواتین آدھی آبادی میں نہیں آتیں؟ امت شاہ نے یہ دیا یہ سخت جواب

حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کے بارے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے لوک سبھا میں کہا، ”ہم آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026، یونین ٹیریٹریز لاز (امیڈمنٹ) بل، 2026، یونین ٹیریٹریزلا (ترمیمی) بل، 2026 کی مخالفت کرتے ہیں، جس میں کوئی دوسری پارٹی نہیں ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کی اتنی بڑی حامی ہے۔“

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے مسلم خواتین کے ریزرویشن کی بات تو امت شاہ نے سخت جواب دیا ہے۔

نئی دہلی: خواتین ریزرویشن ایکٹ میں ترامیم پرغورکرنے اوراسے منظورکرنے کے لئے پارلیمنٹ کے تین روزہ خصوصی اجلاس کے پہلے دن جمعرات (16 اپریل) کومرکزی حکومت نے تین بل پیش کئے۔ تاہم کانگریس اورسماج وادی پارٹی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے ان بلوں کی مخالفت کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینو گوپال کے اعتراض پرجواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ وہ بلوں کی خوبیوں پربات نہیں کر سکتے اوران کے تعارف پرصرف تکنیکی اعتراضات کرسکتے ہیں۔

اس سے پہلے مرکزی وزیرقانون ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں آئین (131واں ترمیمی) بل، 2026 پیش کرنے کی تجویز پیش کی۔ پھرمرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے مرکز کے زیرانتظام ریاست قانون (ترمیمی بل)، 2026 پیش کرنے کی تجویز رکھی۔ ساتھ ہی مرکزی زیرقانون ارجن رام میگھوال نے ڈی لمیٹیشن (حد بندی) بل، 2026 پیش کرنے کی تجویز پیش کی۔ دوسری طرف راجیہ سبھا کی کارروائی تقریباً 12 بجے اگلے دن جمعہ  کے روز11 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔ وہیں، دوسری جانب مرکزی وزیرکرن رجیجونے کہا کہ آج اورکل ملاکر12 گھنٹے بحث کا وقت متعین کیا گیا ہے۔ حکومت سننے اورجواب دینے کے لئے تیارہے۔ اس کے بعد اسپیکراوم برلا نے تینوں بلوں سے متعلق کہا کہ کل شام 4 بجے اس بل پرووٹنگ ہوگی۔

آئین ترمیمی بل کی تجویزپرووٹنگ

لوک سبھا میں آئینی ترمیمی بل پرووٹنگ ہوئی۔ ایوان میں 333 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ دیا۔ 207 اراکین پارلیمنٹ نے آئین (131 ویں ترمیم) بل 2026 متعارف کرانے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 126 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے اراکین نے بل کے تعارف کے خلاف ووٹوں کی تقسیم پراصرارکیا تھا۔ اس کے بعد لوک سبھا میں بل کوپیش کرنے کے لئے ووٹنگ ہوئی، جس کے حق میں 251 اورمخالفت میں 185 ووٹ پڑے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن اراکین نے آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 کے خلاف ووٹ دینے پراصرارکیا۔ ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ ٹی آربالواورآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی بل کے پیش کرنے کی مخالفت کرنے والے اپوزیشن اراکین میں نمایاں طورپرشامل رہے۔ ٹی ایم سی اورسی پی آئی ایم بھی بل کی مخالفت کررہے ہیں۔ امت شاہ نے حزب اختلاف کے ممبران پارلیمنٹ کے احتجاج کے درمیان کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کے لئے دونوں بل ضروری ہیں۔ ہم ایک ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن یہاں مخالفت کے مقصد کے ساتھ ہی آیا ہے۔

کیا مسلم خواتین نصف آبادی میں نہیں آتیں؟

اس سے پہلے اکھلیش یادو نے مسلم خواتین کے لئے ریزرویشن کی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بل سے متعلق جلدی بازی کیوں کررہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وزیرنے مذہب کی بات کہی ہو، لیکن پورا ملک آبادی کا ریزرویشن چاہتا ہے۔ کیا مسلم خواتین نصف آبادی میں نہیں آتی ہیں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری سے پہلے بل کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ لوک سبھا میں اکھلیش یادوکے بیان کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا، ”سماجوادی پارٹی اپنی ساری سیٹیں نصف مسلم آبادی کو دے دیں۔ ہمیں کہاں اس بات پراعتراض ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادونے سوال کیا کہ مردم شماری کیوں نہیں کرائی جا رہی ہے۔ میں پورے ملک کو بتانا چاہتا ہوں کہ مردم شماری کا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔ حکومت نے ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا بھی فیصلہ لیا ہے اورذات کے اعدادوشمارکے ساتھ ہی مردم شماری کی جا رہی ہے۔ اگرسماجوادی پارٹی کے بس میں ہوتا تووہ توگھروں کو بھی ذات پات میں تقسیم کردیتے۔ دھرمیندریادونے مسلم خواتین کوریزرویشن دینے کی بات کہی۔ یہ غیرآئینی ہے۔ مذہب کی بنیاد پرریزرویشن دینا غیرآئینی ہے۔”

حکومت کی طرف سے پیش بل سے متعلق لوک سبھا میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندریادونے کہا، ”ہم آئین (131واں ترمیم) بل، 2026، یونین ٹیریٹریزلا (امیڈمنٹ) بل، 2026، یونین ٹیریٹریزلا (امیڈمنٹ) بل، 2026 اورڈی لمیٹیشن بل، 2026 کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی دوسری پارٹی نہیں ہے، جو خواتین ریزرویشن کی اتنی بڑی حامی ہو۔“

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read