کانگریس لیڈر پون کھیڑا کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔
تلنگانہ ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈر پون کھیڑا کو آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ، رنیکی بھوئیاں شرما کی طرف سے درج ایف آئی آرسے متعلق ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دے دی ہے۔ تلنگانہ کانگریس کمیٹی لیگل سیل کے اشوک گوڑنے بتایا کہ ہائی کورٹ نے پون کھیڑا کومتعلقہ کورٹ جانے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔
اس سے پہلے تلنگانہ ہائی کورٹ نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ کے خلاف لگائے گئے کئی الزامات سے متعلق درج معاملے میں کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی عبوری ضمانت عرضی پرسماعت جمعہ تک ملتوی کردی تھی۔ پھرآج کی سماعت میں ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈرکوایک ہفتے کے لئے راحت دے دی۔
سیاسی انتقام کا مقدمہ، سینئروکیل نے دی دلیل
جمعرات کے روزعدالت میں پون کھیڑا کی جانب سے آن لائن پیش ہوتے ہوئے، کانگریس لیڈراورسینئرایڈوکیٹ ابھیشیک منوسنگھوی نے دلیل دی کہ ہیمنت بسوا سرما حکومت کی طرف سے دائرمقدمہ میں سیاسی انتقام شامل ہے۔ تاہم، آسام کے ایڈوکیٹ جنرل، دیوجیت سیکیا نے پون کھیڑا کی درخواست کی مخالفت کی اوردلیل دی کہ اس میں کوئی سیاسی انتقام نہیں ہے اوریہ درخواست تلنگانہ ہائی کورٹ میں قابل سماعت نہیں ہے۔ اس سے پہلے پون کھیڑا نے 7 اپریل کوہائی کورٹ میں عرضی داخل کی اوراپنا رہائشی پتہ حیدرآباد کا بتایا۔ ساتھ ہی انہوں نے عدالت سے یہ گزارش کی کہ اگرانہیں گرفتارکیا جاتا ہے توضمانت پررہا کردیا جائے۔ پون کھیڑا نے اپنی عرضی میں گوہاٹی کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنرآف پولیس اورتلنگانہ حکومت کومدعی بنایا ہے۔
پون کھیڑا نہ کوئی مجرم اورنہ بھگوڑا: ابھیشیک منوسنگھوی
عدالت میں ابھیشیک منوسنگھوی نے اپنی دلیل کے دوران وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کوایک “آئینی چرواہا” قراردیتے ہوئے کہا کہ جب گوہاٹی پولیس نے پون کھیڑا کے خلاف ایف آئی آردرج کی تھی، تب وہ حیدرآباد میں تھے اوروہ اپنی بیوی کے ساتھ یہیں پررہتے ہیں، جو حیدرآباد کی ہی رہنے والی ہیں۔ ان کی اہلیہ تلنگانہ میں الیکشن بھی لڑچکی ہیں۔ انہوں نے ترک دیا کہ یہ ہتک عزت یا دیوانی یا فوجداری کا معاملہ ہوسکتا ہے، لیکن آسام پولیس آخرایسی کسی بات کے لئے کسی کو گرفتارکیوں کرنا چاہے گی؟ کیونکہ پون کھیڑا نہ تو عادتاً کسی طرح کے مجرم ہیں اورنہ ہی ان کے بھاگ جانے کا کوئی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پون کھیڑا سماج میں خاص شناخت رکھتے ہیں اورایک مشہورسیاسی لیڈرہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


