نئی دہلی :مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ بدھ 8 اپریل کو کیے گئے اس اعلان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے سیزفائر پر اتفاق ہو گیا ہے۔ تقریباً 40 دن تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس سے خطے میں امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ وہ ایران پر مجوزہ بمباری اور فوجی کارروائی کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس جنگ بندی کو دو طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران مذاکرات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اگر مقررہ ڈیڈ لائن تک سیزفائر نہ ہوا تو ایران کے پاور پلانٹس اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی درخواست اور بات چیت کے بعد امریکہ نے ایران کی جانب بھیجی جانے والی تباہ کن فوجی طاقت کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بدلے ایران نے اہم بحری گزرگاہ اسٹریٹ آف ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ پہلے ہی اپنے زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور اب وہ ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے اور بیشتر متنازع امور پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جنہوں نے خطے میں جنگ ختم کرانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جاتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دو ہفتوں تک اسٹریٹ آف ہرمز سے محفوظ آمدورفت جاری رہے گی۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


