نئی دہلی :متھن چکرورتی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے پیش نظر ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کو “بنگلہ دیش بننے نہیں دیں گے”۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور بالی ووڈ اداکار متھن چکرورتی ان دنوں انتخابی مہم میں سرگرم ہیں اور ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔متھن چکرورتی نے کہا، “جب تک میرے جسم میں خون کی ایک بوند بھی باقی ہے، کوئی بھی مغربی بنگال کو بنگلہ دیش نہیں بنا سکتا۔” انہوں نے ووٹر لسٹ اور خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے معاملے پر ترنمول کانگریس کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ غیر قانونی دراندازی ریاست کے لیے بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جس سے مقامی لوگوں، خاص طور پر مسلم برادری کے روزگار اور حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
اوویسی کو بتایا “حقیقی لیڈر”
متھن چکرورتی نے اسد الدین اویسی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں “حقیقی لیڈر” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اویسی تعلیم یافتہ ہیں اور بہترین انداز میں بولتے ہیں ۔ متھن چکرورتی نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف ہے جو ملک کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں مدرسوں کو 5713 کروڑ روپے دیے گئے، لیکن اس کے باوجود حالات خراب ہیں اور صفائی کی ضرورت ہے۔
مقامی امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی حمایت
متھن چکرورتی نے پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مقامی امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ جیت کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار مقامی چہروں کو میدان میں اتارا جا رہا ہے تاکہ وہ عوام سے بہتر رابطہ قائم کر سکیں۔
غیر قانونی دراندازی بڑا مسئلہ
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے متھن چکرورتی نے کہا کہ مغربی بنگال میں غیر قانونی دراندازی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مقامی کمیونٹیز، خاص طور پر مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، کیونکہ انہیں ملازمتوں اور سرکاری سہولیات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔متھن چکرورتی نے کہا کہ مقامی مسلم برادری کو وہ سہولیات نہیں مل پا رہیں، جن کے وہ حقدار ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

