Urdu Conclave 2026

Hate Against Muslim Student: ’’ڈونلڈ ٹرمپ آ کر تمہیں اٹھا لے جائیں گے‘‘ اور ’’تم جہنم میں جاؤ گے… ‘‘ کلاس میں پروفیسر مرلی دھر دیشپانڈے کا مسلم طالب علم کے ساتھ ناروا سلوک، تنازع کے بعد یونیورسٹی کا بڑا ایکشن

بنگلورو کی پی ای ایس یونیورسٹی میں ایک پروفیسر نے مسلم طالب علم عفان کے خلاف قابلِ اعتراض اور مذہبی تبصرہ کیا ہے۔ یہ تنازع کلاس میں طالب علم کی جانب سے اجازت مانگنے کے دوران شروع ہوا۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ملزم  پروفیسر کے خلاف یونیورسٹی نے بڑا ایکشن  لیا ہے۔

بنگلورو کی پی ای ایس یونیورسٹی سے ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے تعلیمی دنیا کو شرمندہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک پروفیسر اپنی حدیں بھول کر کلاس روم میں ایک مسلم طالب علم کو ’دہشت گرد‘ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد کیمپس میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور اب یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت رویہ اپناتے ہوئے ملزم پروفیسر کو معطل کر دیا ہے۔

آخر کیا تھا پورا معاملہ؟

بتایا جا رہا ہے کہ عفان نامی ایک طالب علم نے کسی سے ملنے کے لیے کلاس سے باہر جانے کی اجازت مانگی تھی۔ اتنی سی بات پر پروفیسر مرلی دھر دیشپانڈے اس قدر برہم ہو گئے کہ انہوں نے پوری کلاس کے سامنے طالب علم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ وائرل ویڈیو میں صاف سنا جا سکتا ہے کہ چیک شرٹ پہنے پروفیسر طالب علم پر چیخ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’تمہیں شرم نہیں آتی؟ میں نے سوچا تھا کہ آج میں بہت پُرسکون رہوں گا۔‘‘ لیکن اس کے فوراً بعد انہوں نے طالب علم کو ’دہشت گرد‘ کہہ دیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، پروفیسر نے ایران جنگ کے لیے بھی طالب علم کی برادری کو ذمہ دار ٹھہرایا اور یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ آ کر تمہیں اٹھا لے جائیں گے‘‘ اور ’’تم جہنم میں جاؤ گے۔‘‘

انتظامیہ کی کارروائی اور متنازع فیصلہ

معاملہ بڑھنے کے بعد یونیورسٹی نے تین دن بعد پروفیسر کو معطل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ وائس چانسلر نے اپنے خط میں واضح کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک پروفیسر معطل رہیں گے۔ تاہم اس معاملے میں اس وقت نیا موڑ آیا جب خبر ملی کہ عفان کی حمایت کرنے والے تین دیگر طلبہ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی نے اس کے پیچھے بدانتظامی جیسے دیگر وجوہات بتائی ہیں، لیکن طلبہ کے درمیان اس فیصلے پر کافی ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی کا کیا کہنا ہے؟

یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس واقعے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم پروفیسر کوئی نئے فرد نہیں ہیں بلکہ وہ کئی سالوں سے وہاں ایڈجَنکٹ پروفیسر کے طور پر پڑھا رہے ہیں اور ان کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ کلاس میں کبھی کبھار نظم و ضبط کی کمی ہو سکتی ہے، لیکن اس طرح کا ردعمل حیران کن ہے۔ تاہم ویڈیو کے پیچھے کی مکمل حقیقت اور طالب علم کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا مکمل تناظر ابھی تحقیقات کا موضوع ہے۔ اس معاملے کو لے کر اب سیاست اور احتجاج بھی شروع ہو گیا ہے۔ کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پروفیسر نہ صرف عوامی طور پر معافی مانگیں بلکہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی کی جائے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی تعلیمی ادارے میں مذہب یا برادری کی بنیاد پر کسی طالب علم کو ذہنی طور پر ہراساں نہ کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔