Bharat Express DD Free Dish

Hate against Muslims

بنگلورو کی پی ای ایس یونیورسٹی میں ایک پروفیسر نے مسلم طالب علم عفان کے خلاف قابلِ اعتراض اور مذہبی تبصرہ کیا ہے۔ یہ تنازع کلاس میں طالب علم کی جانب سے اجازت مانگنے کے دوران شروع ہوا۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ملزم  پروفیسر کے خلاف یونیورسٹی نے بڑا ایکشن  لیا ہے۔

کشتی پر سوار افراد نے گنگا کے درمیان افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ اس دوران مہمانوں کو میوہ، پھل اور چکن بریانی پیش کی گئی۔ پارٹی کے دوران وہاں موجود کسی شخص نے یہ ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔

گجرات کے بھروچ میں سرکاری زمین پر قائم بالاپیر درگاہ اور دو مزاروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا۔ اس دوران بھاری تعداد میں پولیس تعینات رہی۔ انتظامیہ نے یہ کارروائی گاؤں والوں کی شکایت پر کی۔

مدھیہ پردیش کے شہر مند سور میں ایک بزرگ شخص کو بچہ چور ہونے کے شبہہ میں مشتعل ہجوم نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ لوگوں نے اسے رسی سے باندھ کر لاتوں اور گھونسوں سے مارا پیٹا۔

کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادری اس وقت ایک نہایت مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر خبردار کیا اور کہا کہ مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔

مقررین نے انکشاف کیا کہ کس طرح آسام میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے اور حراستی مراکز میں اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اکھاڑا پریشد نے مہاکمبھ کے علاقے میں مسلم مذہب کے کسی بھی فرد کے ذریعہ دکان یا کسی بھی طرح کے کاروبار کو لے کر فرمان جاری کرچکی ہے،

سپریم کورٹ ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں منعقدہ ریلیوں میں ایک مخصوص کمیونٹی کے افراد کے قتل اور ان کے سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کے لیے مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے سلسلے میں دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔یہ درخواست صحافی شاہین عبداللہ نے دائر کی تھی۔

پوری بے باکی کے ساتھ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے اسلامو فوبیاکا استعمال کیا جا رہا ہے، ایسے میں یہ بالکل پریشان کن وقتہے۔ اس قسم کی چیزیں جو خالص، غیر مخفی پروپیگنڈے کو لپیٹ میں لے رہی ہیں اور یہ زمانے کےمزاج  کا عکس ہے۔ مسلمانوں سے نفرت ان دنوں فیشن ہے، یہاں تک کہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوگئی ہے۔