انل امبانی (فائل فوٹو)
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو انل امبانی کی کمپنی ریلائنس کمیونیکیشنز (آر کام) سے جڑے مبینہ بڑے بینک لون فراڈ کیس کی تحقیقات پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں تفتیش شفاف، بے لاگ اور مقررہ مدت کے اندر مکمل ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور عوام کا اعتماد قائم رہے۔
عدالتی ہدایت اور ایجنسیوں کا کردار
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ ای ڈی اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ معاملے کی حقیقت کھل کر سامنے آئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس سے عدلیہ اور عوام دونوں کا اعتماد برقرار رہے۔ بنچ، جس میں جسٹس جائے مالیا باغچی اور جسٹس وپُل ایم پانچولی شامل تھے، نے زور دیا کہ تحقیقات وقت کے پابند ہونی چاہیے اور اس دوران یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ اب تک کیا کارروائی ہوئی اور کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ عدالت نے ایجنسیوں کی کسی بھی قسم کی سست روی کو مسترد کیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے میں کسی کی گرفتاری کا حکم نہیں دے سکتی، تاہم تحقیقات کی سست پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا۔
وکیل اور حکومت کی وضاحت
سماعت کے دوران، درخواست گزار کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ کافی شواہد موجود ہونے کے باوجود سی بی آئی نے ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کی۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ کچھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تقریباً 15,000 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ تحقیقات میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
اے ڈی اور مالی اداروں کی شمولیت
عدالت نے ای ڈی کو دوسری اسٹیٹس رپورٹ جمع کرانے کی اجازت دی اور تمام متعلقہ مالی اداروں کو تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ اس کیس کی اگلی سماعت چار ہفتے بعد ہوگی۔
معاملے کی نوعیت اور پیش رفت
یہ کیس ریلائنس کمیونیکیشنز (آر کام) اور اس کی معاون کمپنیوں سے متعلق مبینہ مالی فراڈ اور قرض کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔ عدالت پہلے بھی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے اور وقت پر تحقیقات مکمل کرنے کے ہدایات دے چکی ہے۔ سی بی آئی نے حال ہی میں تحقیقات میں شدت پیدا کی ہے۔ ایجنسی کے مطابق، انل امبانی گروپ کے متعدد اعلیٰ حکام سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ 21 مارچ کو گوتم دوشی اور ستیش سیٹھ سے پوچھ گچھ ہوئی، جبکہ امیتابھ جھنجھن والا سے پہلے ہی سوال جواب مکمل ہو چکے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق 2013 سے 2017 کے درمیان پیچیدہ مالیاتی لین دین کے ذریعے قرض کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا، جس سے بینکوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ انل امبانی سے بھی متعدد بار پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
