Urdu Conclave 2026

Loan Fraud

تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گروہ نے اپنی سرگرمیوں کے لیے جدید ذرائع اختیار کیے ہوئے تھے۔ ملزمان فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آدھار کارڈ اور پین کارڈ بنانے یا ان میں تبدیلی کرنے کے نام سے اشتہارات چلاتے تھے۔ جب کوئی شخص ان اشتہارات کے ذریعے رابطہ کرتا تو اسے کم شرح سود پر سرکاری قرض اور فوری سبسڈی کے وعدے کیے جاتے تھے۔

یہ کیس ریلائنس کمشیل فائناس لیمٹڈ  (آر سی ایف ایل) اور آر ایچ ایف ایل میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے جڑا ہوا ہے، جہاں دونوں سابق افسران کے کردار پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جھنجھن والا ماضی میں ریلائنس گروپ کے گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر اور ریلائنس کیپیٹل کے نائب چیئرمین رہ چکے ہیں،

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ ای ڈی اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ معاملے کی حقیقت کھل کر سامنے آئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس سے عدلیہ اور عوام دونوں کا اعتماد برقرار رہے۔

2006 میں CBI نے بنگلورو کے جوڑے آر ایم شیکھر اور ان کی اہلیہ مانی ایم شیکھر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ دونوں ’انڈو مارکس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے ڈائریکٹر تھے۔