Bharat Express DD Free Dish

Loan Fraud Case: دہلی کی عدالت نے لون فراڈ کیس میں انل امبانی کے دو سابق اعلی ٰعہدیداران کی ای ڈی تحویل 15 مئی تک بڑھائی

یہ کیس ریلائنس کمشیل فائناس لیمٹڈ  (آر سی ایف ایل) اور آر ایچ ایف ایل میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے جڑا ہوا ہے، جہاں دونوں سابق افسران کے کردار پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جھنجھن والا ماضی میں ریلائنس گروپ کے گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر اور ریلائنس کیپیٹل کے نائب چیئرمین رہ چکے ہیں،

نئی دہلی: دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے ہفتہ کے روز انل امبانی کے قریبی سمجھے جانے والے دو سابق اعلیٰ عہدیداران—امیتابھ جھنجھن والا اور امت  بپناکی عدالتی تحویل 15 مئی تک بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ ریلائنس ہوم فائناس لمیٹڈ (آر ایچ ایف ایل) سے جڑے مبینہ منی لانڈرنگ کیس سے متعلق ہے۔راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی پی ایم ایل اے جج نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) کی جانب سے مزید پوچھ گچھ کے لیے تحویل بڑھانے کی درخواست منظور کر لی۔ دونوں ملزمان کو ان کی سابقہ عدالتی تحویل ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ جھنجھن والا کو خراب صحت کے باعث ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیشی دی گئی۔ عدالت نے جیل حکام کو ان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ای ڈی نے دونوں کو انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت جاری تحقیقات کے دوران گرفتار کیا تھا۔ یہ تحقیقات سینٹرل بیوروآف انوسیٹی گیشن (سی بی آئی) کی جانب سے درج مقدمات کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں۔

یہ کیس ریلائنس کمشیل فائناس لیمٹڈ  (آر سی ایف ایل) اور آر ایچ ایف ایل میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے جڑا ہوا ہے، جہاں دونوں سابق افسران کے کردار پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جھنجھن والا ماضی میں ریلائنس گروپ کے گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر اور ریلائنس کیپیٹل کے نائب چیئرمین رہ چکے ہیں، جب کہ بپنا ریلائنس کیپیٹل کے چیف فنانشل آفیسر اور آر ایچ ایف ایل کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔تحقیقات میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دونوں ملزمان بینک قرضوں کے مبینہ غلط استعمال اور رقم کو مختلف ذرائع سے گھما کر استعمال کرنے (منی لانڈرنگ) میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل سی بی آئی نے ریلائنس  کمیونیکیشن (آر کام)، انیل امبانی اور دیگر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا تھا، جس میں الزام ہے کہ لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا(ایل آئی سی) کو تقریباً 3,750 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔

ذرائع کے مطابق اس کیس میں انل امبانی سے بھی پہلے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ریلائنس گروپ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ جھنجھن والا اور بپنا اب کمپنی سے وابستہ نہیں ہیں۔ گروپ کے مطابق دونوں عہدیداران نے 2019 میں ہی کمپنی چھوڑ دی تھی اور اس وقت  ریلائنس انفراسٹرکچر لمیٹڈ اور ریلائنس پارور لمیٹڈ سمیت کسی بھی گروپ کمپنی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read