آسام اسمبلی انتخابات کی آہٹ کے درمیان کانگریس نے ریاست میں اپنی تنظیمی مشینری تیز کر دی ہے۔ اس بار تیاریوں کی کمان سینئر لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا کے ہاتھ میں ہے۔ پرینکا گاندھی آسام کے لیے بنائی گئی پارٹی کی اسکریننگ کمیٹی کی صدر ہیں اور 19-20 فروری کو دو روزہ دورے پر گوہاٹی پہنچیں گی۔ عموماً اسکریننگ کمیٹی کے ارکان انتخابی میدان میں براہِ راست سرگرم نظر نہیں آتے، ایسے میں ان کا یہ دورہ خاصا اہم مانا جا رہا ہے۔
پرینکا گاندھی کا آسام دورہ کیوں ہے اہم؟
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ دورہ عوامی جلسوں سے زیادہ تنظیمی معاملات پر مرکوز ہوگا۔ دونوں دن ریاستی لیڈروں، ضلعی صدور اور محاذی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ بند کمرے میں اجلاس طے ہیں۔ مقصد واضح ہے، پارٹی کے اندر جاری اختلافات کو سلجھانا، باہمی تال میل کو بہتر بنانا اور امیدواروں کے انتخاب سے پہلے ایک متحد ڈھانچہ تیار کرنا۔ کانگریس قیادت کا ماننا ہے کہ گزشتہ مرتبہ دھڑوں کی کشمکش اور ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اس لیے پرینکا گاندھی کی ملاقاتوں میں سب سے پہلے باہمی اختلافات ختم کرنے اور فیصلے کرنے کے عمل کو مرکزی حیثیت دینے پر زور رہے گا۔
اندرونی کشمکش کو دور کرنا اہم ترجیحات میں شامل
ایک سینئر آسام کانگریس لیڈر نے کہا کہ پیغام واضح ہے، نہ کوئی الگ دھڑا چلے گا، نہ الگ الگ بیانات دیے جائیں گے۔ سب سے پہلے تنظیم کو انتخابات کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس سمت میں کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ اسکریننگ کمیٹی کے اراکین اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں اور ممکنہ امیدواروں، مقامی مسائل اور تنظیم کی صورتحال پر فیڈ بیک لے رہے ہیں۔
’پرینکا فیکٹر‘
آسام میں کارکنوں کے درمیان پرینکا گاندھی کی سرگرمی کو حوصلہ بڑھانے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ ایک رہنما نے کہا کہ یہ صرف کرشمہ نہیں، بلکہ وہ کام کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ ہر اسائنمنٹ کا جائزہ لیتی ہیں اور نتائج طلب کرتی ہیں۔ ان کا دورہ یہ پیغام دیتا ہے کہ پارٹی آسام کو ہلکے میں نہیں لے رہی۔ گوہاٹی دورے کے بعد حکمت عملی کا خاکہ تیار ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد پارٹی امیدواروں کی شارٹ لسٹ بنائے گی اور مقامی مسائل جیسے بے روزگاری، مہنگائی، چائے کے باغات کے مزدوروں کی حالت کو مرکز میں رکھتے ہوئے انتخابی مہم شروع کرے گی۔ کانگریس کے لیے آسام کا انتخاب محض ایک ریاست کی لڑائی نہیں، بلکہ شمال مشرقی بھارت میں تنظیم کو دوبارہ مضبوط کرنے کا امتحان بھی ہے، وہ علاقہ جہاں کبھی پارٹی کا غلبہ تھا، لیکن پچھلی دہائی میں زمین کھسکتی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
