سپریم کورٹ سے ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔
مغربی بنگال کے SIR معاملے میں سماعت میں شرکت کے لیے ممتا بنرجی سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔ ان کے ساتھ کئی سینئر وکلا بھی موجود ہیں۔ ممتا بنرجی اس وقت سپریم کورٹ کی ویژٹر گیلری میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کی آمد سے قبل سپریم کورٹ کے اطراف بھاری تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی تھیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وِپُل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ اس معاملے میں دائر درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے۔ اس کیس کو قومی سیاست کے لیے نہایت اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ ووٹر لسٹ میں مبینہ گڑبڑی کے الزامات نے سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممتا بنرجی ملک کی پہلی ایسی وزیر اعلیٰ ہیں جو سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران خود موجود رہ کر دلائل اور کارروائی پر نظر رکھ سکتی ہیں۔ ان کی موجودگی کو ایک غیر معمولی اور علامتی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے عدالتی اور سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
ممتا بنرجی نے 28 جنوری کو اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو فریق بنایا ہے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی SIR (اسپیشل انٹینسِو ریویژن) معاملے پر دائر متعدد عرضیوں کی سماعت کر رہی ہے۔
الیکشن کمشنر کو خط بھی لکھا تھا
اس سے قبل ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط لکھ کر انتخابی ریاست میں مبینہ من مانی اور خامیوں سے بھرپور SIR عمل کو روکنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر موجودہ شکل میں SIR جاری رہا تو بڑے پیمانے پر شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے، جو جمہوریت کی بنیادوں پر براہِ راست حملہ ہوگا۔دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ ووٹر لسٹ کے SIR سے متاثر ہونے والے افراد کو نہ تو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے اور نہ ہی اپنے دفاع کا۔ انہوں نے اسمبلی انتخابات سے عین قبل مغربی بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں SIR کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کیے تھے۔
ایک ماہ پہلے کیا کہا تھا؟
تقریباً ایک ماہ قبل ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ وہ شہریوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ایک عام شہری کی حیثیت سے سپریم کورٹ کا رخ کریں گی۔ جنوبی 24 پرگنہ کے گنگا ساگر میلے کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ عوام کی طرف سے وکالت کرنے اور عدالت میں اپنی بات رکھنے کے لیے خصوصی اجازت طلب کریں گی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا تھا کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو وہ خود سپریم کورٹ جا کر عوام کے حق میں آواز اٹھائیں گی۔ ’’میں عوام کی طرف سے بولوں گی۔‘‘ انہوں نے آگے کہا تھا، ’’میں وکیل کے طور پر نہیں جاؤں گی، حالانکہ میں ایک وکیل ہوں۔ میں اپنی بات رکھنے کی اجازت لوں گی اور زمینی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے، جو حقیقت ہے اور جس طرح لوگوں کو پریشان کیا جا رہا ہے، اسے پوری طرح واضح کرنے کی کوشش کروں گی۔‘‘ ممتا بنرجی کے مطابق سال 2002 میں مغربی بنگال میں SIR ہوا تھا۔ پھر اب انتخابات سے عین پہلے بنگال میں دوبارہ SIR کیوں کرایا جا رہا ہے؟ ان کا سوال ہے کہ تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال—جہاں اپوزیشن کی حکومتیں ہیں—وہیں SIR کی کارروائی کیوں کی جا رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ اس عمل میں زندہ لوگوں کو مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
