Bharat Express DD Free Dish

West Bengal SIR Case

بنگال میں SIR کے38لاکھ معاملات ہیں۔ ان میں سے83 ہزار معاملات میں فیصلہ آ چکا ہے۔90 فیصد کیسز میں نام کاٹنے کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ یعنی 90 فیصد نام درست ہیں۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بنگال میں دوبارہ الیکشن ہوں گے؟

 سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ان لوگوں کی اپیلوں کے نمٹارے کی جانکاری دینے کا حکم دیا ہے، جن کے نام مغربی بنگال میں ای سی آئی کی اسپیشل انٹینسیورویژن (ایس آئی آر) عمل کے دوران ووٹرلسٹ سے ہٹا دیئے گئے تھے۔

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

مغربی بنگال میں کانگریس امیدوارکا نام ایس آئی آرکی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ امیدوارکے وکیل نے کل کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی۔ درخواست پرسماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایس آئی آرسے متعلق تمام معاملات کی سماعت ہو رہی ہے، اس لئے انہیں براہ راست سپریم کورٹ جانا پڑے گا۔

 ملک کی کئی ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق پیدا ہوئی متنازعہ صورتحال کے درمیان مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں وکیل بن کرمداخلت کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ کی بینچ نے انہیں زبردست جھٹکا دیا۔

ووٹروں کی فہرست میں مبینہ گڑبڑی کے خلاف ممتا بنرجی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہیں۔ وہ اس وقت عدالت کی وزیٹر گیلری میں موجود ہیں۔ ممتا بنرجی نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

واضح رہے کہ دعوؤں اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 15 جنوری سے بڑھا کر 19 جنوری 2026 کر دی گئی تھی، جبکہ ان پر سماعت کا عمل 7 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ مغربی بنگال کی حتمی ووٹر فہرست 14 فروری 2026 کو شائع کی جائے گی۔