Bharat Express DD Free Dish

Palestine Issue: ’’فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے بھارت…‘‘ وزیر خارجہ وارسن اغابیکیان کا بیان

بھارت 31 جنوری کو دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (آئی اے ایف ایم ایم) کی میزبانی کرے گا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں عرب لیگ کے دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل بھی شریک ہوں گے۔

فلسطین کی وزیر خارجہ وارسن اغابیکیان۔

نئی دہلی: فلسطین کی وزیر خارجہ وارسن اغابیکیان نے جمعرات کے روز کہا کہ نئی دہلی فلسطین اور اسرائیل، دونوں فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فلسطین اور اسرائیل دونوں کا دوست ہے۔ فلسطین کی وزیر خارجہ دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (ایف ایم ایم) اور چوتھی ہند-عرب سینئر افسران کی میٹنگ (ایس او ایم) 2026 میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچی ہیں۔ اغابیکیان نے کہا کہ فلسطین کو امید ہے کہ بھارت جاری امن کوششوں میں سرگرم کردار ادا کرے گا۔

اغابیکیان نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اس آنے والی میٹنگ کو فلسطینی مسئلے، غزہ کی تعمیرِ نو، امن منصوبے اور بھارت و عرب دنیا کے لیے اہم دیگر امور پر بات چیت کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کو آگے بڑھانے میں بھارت کے کردار سے متعلق سوال کیا گیا تو وزیر خارجہ نے کہا، “بھارت فلسطین اور اسرائیل دونوں کا دوست ہے، اسی لیے وہ دونوں فریقوں کے درمیان پل بنانے اور تجاویز پیش کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے کہ وہ دونوں ممالک کا دوست ہے۔ اس معاملے میں ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت کسی بھی امن کوشش میں سرگرمی سے شامل ہونے کے لیے جو بھی ضروری ہوگا، وہ کرے گا۔”

انہوں نے مزید کہا، “ہم اس میٹنگ کو موجودہ حالات اور اہم مسائل پر گفتگو کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں فلسطین، غزہ، غزہ کی تعمیرِ نو، امن منصوبے اور بھارت و عرب دنیا کے لیے اہم دیگر امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔” یہاں بتاتے چلیں کہ بھارت 31 جنوری کو دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (آئی اے ایف ایم ایم) کی میزبانی کرے گا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں عرب لیگ کے دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل بھی شریک ہوں گے۔

نیویارک ڈیکلیریشن کو اغابیکیان نے نہایت ضروری بتایا

فلسطینی وزیر خارجہ نے نیویارک ڈیکلیریشن کو نہایت ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بیان کردہ ذمہ داریوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے فلسطین اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ نیویارک ڈیکلیریشن کے بعد فلسطینی قیادت کے آئندہ لائحہ عمل سے متعلق سوال پر اغابیکیان نے کہا، “نیویارک ڈیکلیریشن ایک بہت اہم اعلان ہے کیونکہ یہ ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے کہ ہم آج کی صورتحال سے آزادی اور خودمختاری کی جانب کیسے آگے بڑھیں۔ ہم ان تمام ممالک کے ساتھ کام کریں گے جنہوں نے نیویارک ڈیکلیریشن پر دستخط کیے ہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان ذمہ داریوں پر عمل ہو جن کا وعدہ اس اعلان کی منظوری دینے والوں نے کیا ہے۔”

ٹرمپ کی طرف سے بھارت کو مدعو کیے جانے پر ردعمل

قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کے لیے بھارت کو بھی مدعو کیا ہے۔ اس حوالے سے فلسطینی وزیر خارجہ نے کہا، “بھارت کو ایک عالمی طاقت، عالمی اقتصادی طاقت اور عالمی جمہوری طاقت کے طور پر اپنے مفادات کو دیکھنا ہوگا اور یہ طے کرنا ہوگا کہ یہ اس کے لیے درست ہے یا نہیں۔ میں کسی کو یہ نہیں بتا سکتی اور نہ ہی اس پوزیشن میں ہوں کہ یہ کہہ سکوں کہ وہ اس میں شامل ہوں یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ امن کے حوالے سے دنیا بھر کے کئی ممالک کے درمیان مختلف نکات پر اختلافات ہیں اور ہر ملک کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ ان کی توقعات کے مطابق ہے یا نہیں۔”

پاکستان کے ساتھ حماس کے مبینہ تعلقات پر سوال کا جواب

اغابیکیان نے کہا کہ امن منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے اور گروپ کو فلسطینی ریاست کے اتحاد کے مفاد میں اپنی بات رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ پاکستان اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ حماس کے مبینہ تعلقات پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، “ہم ہر طرح کے تشدد اور ممالک کے درمیان تنازعات کی مذمت کرتے ہیں، جنہیں تشدد کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ کسی بھی سرحدی تنازعے کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور مذاکرات کی میز پر حل کیا جانا چاہیے۔”

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read