Bharat Express DD Free Dish

Palestine Crisis

سونیا گاندھی نے غزہ موضوع پرمرکزی حکومت کی خاموشی پرسوال اٹھائے۔ بی جے پی نے جواب دیتے ہوئے کانگریس پرغیرملکی پالیسی کوووٹ بینک سے جوڑنے کا الزام لگایا ہے۔

بھارت 31 جنوری کو دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (آئی اے ایف ایم ایم) کی میزبانی کرے گا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں عرب لیگ کے دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل بھی شریک ہوں گے۔

تمل ناڈوکے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے پیغمبر اسلام کے 1500ویں یوم پیدائش کے موقع پرایک تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ڈی ایم کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے وقف ایکٹ، شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)، تین طلاق اورفلسطین جیسے مسائل پربھی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ’’اگر مسلمانوں کوکوئی مسئلہ درپیش ہے، توسب سے پہلی سیاسی جماعت جوان کی مدد کو آتی ہے وہ ڈی ایم کے ہے۔‘‘

دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں سخت رکاوٹوں کا شکار ہیں، جن میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت ہے۔ امریکہ نے فلسطینی قیادت کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے بھی روک رکھا ہے۔

یہ اشتہار اس سچائی کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں ساکھ کی قیمت بہت زیادہ ہے، اور ایک غلط قدم یا ناسمجھی پر مبنی مہم، برسوں کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔

دونوں وفود نے اپنی ملاقاتوں میں غزہ میں جاری انسانی المیے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کریں اور فلسطینیوں کے لیے فوری امداد فراہم کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو فلسطین کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی برابری نہیں اور حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کرے۔