Bharat Express DD Free Dish

شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف واپس لیے جائیں گے مقدمات، بنگلہ دیش الیکشن سے قبل یونس حکومت کا بڑا فیصلہ

بنگلہ دیش کی عبوری یونس حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں شیخ حسینہ کے خلاف جولائی میں ہونے والی بغاوت کے مظاہرین کے خلاف دائر تمام دیوانی اور فوجداری مقدمات کو واپس لینے کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔ یہ اقدام آئندہ الیکشن سے قبل سیاسی طورپر اہم ہے۔

بنگلہ دیش کی محمد یونس حکومت نے شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے کیس واپس کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ (فائل فوٹو)

بنگلہ دیش میں گزشتہ سال جولائی میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف بغاوت کے دوران مظاہرین کے خلاف درج تمام دیوانی اورفوجداری مقدمات واپس لے لئے جائیں گے۔ بنگلہ دیش الیکشن سے پہلے محمد یونس کی عنوری حکومت نے اس بارے میں ایک آرڈیننس جاری کیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف کوئی نیا کیس یا چارج نہیں لگایا جائے گا۔ بنگلہ دیش کی وزارت قانون نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے کہ 25 جنوری کو”جولائی بغاوت (پروٹیکشن اینڈ ڈیٹرمینیشن آف لائبلٹی) آرڈیننس، 2026″ جاری کیا ہے۔ 15 جنوری کومحمد یونس کی سربراہی میں مشاورتی کونسل کی میٹنگ ہوئی تھی، وہاں اس آرڈیننس کومنظوری دی گئی تھی۔

آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ اگرکسی کے خلاف عوامی تحریک میں حصہ لینے پرمقدمہ درج کیا گیا ہے توپبلک پراسیکیوٹریا سرکاری وکیل عدالت میں درخواست دے گا۔ اس درخواست کے بعد عدالت کیس کوآگے نہیں بڑھائے گی۔ کیس واپس لینے پرغورکیا جائے گا۔ ملزمان کوفوری طورپرڈسچارج یا بری کردیا جائے گا۔

قتل کے الزامات کی پہلے ہوگی جانچ، پھرہوگی کوئی کارروائی

احتجاجی مظاہرہ کرنے والے کسی شخص کے خلاف قتل کا الزام لگایا جاتا ہے، تواسے قومی انسانی حقوق کمیشن میں جمع کرایا جانا چاہئے۔ کمیشن کیس کی تحقیقات کرے گا۔ اگرمتوفی شخص نے کسی تنظیم یا فورس میں خدمات انجام دیں توکمیشن اس تنظیم یا فورس کے کسی افسرکوتفتیش نہیں سونپ سکتا۔ اگرتفتیش میں ملزم کی گرفتاری یا حراست کی ضرورت پڑتی ہے توتفتیشی افسرسب سے پہلے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کمیشن کی منظوری حاصل کرے گا۔ آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرملزم کے خلاف تحقیقات میں کسی جرم میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا توکمیشن خصوصی عدالت سے رجوع کرے گا۔ عدالت درخواست کوپولیس کی درخواست سمجھے گی اورضروری کارروائی کرے گی۔

شیخ حسینہ کوہٹانے کے لیے طلبا کا پُرتشدد احتجاج

اگرکمیشن کی تحقیقات اس بات کا تعین کرتی ہے کہ شکایت میں بیان کردہ کارروائی سیاسی احتجاج کا حصہ تھی، تووہ حکومت کوحکم دے سکتا ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کومعاوضہ ادا کرے۔ اس لئے اس واقعہ کے حوالے سے کسی عدالت میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا اورنہ ہی قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ جولائی 2024 میں، طلبہ اورنوجوانوں کا ایک بڑا حصہ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہارکرنے کے لئے بنگلہ دیش کی سڑکوں پرنکلا۔ عوامی لیگ کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ شیخ حسینہ بنگلہ دیش سے بھارت بھاگ آئیں۔ اس واقعہ میں پولیس اورانتظامیہ کے اہلکاروں پرمظالم کا الزام لگایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فورس کے اراکین کی موت واقع ہوئی تھی۔ یونس حکومت نے اس واقعہ میں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کے لئے ایک آرڈیننس جاری کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read