نئی دہلی: سیاست میں عموماً سخت بیانات اور الزامات کا دور چلتا رہتا ہے، لیکن جب حزبِ اختلاف کا کوئی سینئر لیڈر وزیر اعظم کی تعریف کر دے تو یہ بات فوراً سرخیوں میں آ جاتی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کی تعریف کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ اس بیان پر بی جے پی نہ صرف خوش نظر آ رہی ہے بلکہ پارٹی کے سینئر لیڈر سید شاہنواز حسین نے اسے سچائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کھلے دل سے سراہا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ششی تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گوتم گمبھیر کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کی۔ تصویر کے ساتھ ششی تھرور نے لکھا کہ وزیر اعظم کے بعد اگر بھارت میں کوئی سب سے مشکل اور چیلنجنگ ذمہ داری نبھا رہا ہے تو وہ گوتم گمبھیر ہیں۔ ان کے اس تبصرے کو بالواسطہ طور پر وزیر اعظم مودی کی قیادت کی تعریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی۔
ششی تھرور کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے بی جے پی کے سینئر لیڈر شاہنواز حسین نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی مقبولیت کسی ایک جماعت یا نظریے تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”آج صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو تسلیم کرتی ہے۔ لوگ ان سے پیار کرتے ہیں اور ان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ ششی تھرور صاحب اگرچہ ایک مختلف سیاسی نظریہ رکھتے ہیں، لیکن ایک بھارتی ہونے کے ناطے انہوں نے سچ کہا ہے“۔ شاہنواز حسین نے گوتم گمبھیر کی بھی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور کوچ شاندار کام کر رہے ہیں اور بھارتی ٹیم کو نئی سمت دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کھیل اور سیاست دونوں میں قیادت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اور گمبھیر اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔
تاہم، شاہنواز حسین کا بیان محض تعریف تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے انتخابی حکمت عملی بنانے والی تنظیم آئی-پیک پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنظیمیں اب سیاست میں کالے دھن کو سفید کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ یہ ادارے پیسے لے کر سیاسی جماعتوں کو فروغ دیتے ہیں اور مخالفین کے خلاف منظم مہم چلاتے ہیں، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ اسی دوران انہوں نے مغربی بنگال کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ممتا بنرجی حکومت کو نشانہ بنایا۔ شاہنواز حسین نے الزام لگایا کہ بنگال پولیس سیاسی دباؤ میں کام کر رہی ہے، جبکہ اس کے برعکس بہار میں الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق شفاف طریقے سے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بہار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہنواز حسین نے پٹنہ میں ایک نیٹ طالبہ کی افسوسناک موت پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے احتجاج کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی اپنی سیاسی زمین کھو چکی ہے اور اب عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے۔ ریاست کی قانون و انتظام کی صورتحال پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے شاہنواز حسین نے کہا، ”نتیش کمار کی قیادت میں بہار میں گڈ گورننس کی حکومت ہے۔ یہاں مجرموں کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی“۔ ششی تھرور کے بیان اور اس پر بی جے پی کے ردِعمل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ سیاست میں کبھی کبھار تعریف بھی بڑی بحث کا سبب بن جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


