نئی دہلی: ملک کی داخلی سلامتی کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے کی سمت میں مرکزی حکومت نے ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نیشنل سیکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کے مانیسر واقع کیمپس میں منعقد ایک خصوصی پروگرام کے دوران ’نیشنل آئی ای ڈی ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم‘ (این آئی ڈی ایم ایس) کا ورچوئل افتتاح کیا۔ اس جدید نظام کو ملک کی سلامتی کے لیے ایک مضبوط ’ڈیٹا کوچ‘ قرار دیا جا رہا ہے، جو دہشت گردی اور خاص طور پر آئی ای ڈی حملوں کے خلاف لڑائی میں سیکورٹی ایجنسیوں کو نئی طاقت فراہم کرے گا۔
این آئی ڈی ایم ایس ایک جدید ترین ڈیٹا مینجمنٹ اور تجزیاتی نظام ہے، جو ملک بھر میں ہونے والے آئی ای ڈی دھماکوں اور دہشت گردانہ واقعات سے متعلق معلومات کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔ اب تک یہ حساس ڈیٹا مختلف ریاستی اور مرکزی ایجنسیوں کے پاس الگ الگ موجود تھا، جس کی وجہ سے تجزیہ اور تفتیش میں وقت لگتا تھا۔ نئے نظام کے تحت اس بکھرے ہوئے ڈیٹا کو یکجا کرکے سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر اس کا تجزیہ کیا جائے گا۔ امت شاہ نے اسے ’ون نیشن، ون ڈیٹا ٹیریٹری‘ کے تصور کی جانب ایک انقلابی قدم بتایا۔
مانیسر میں این ایس جی کے ’زیرو ایرر فورس‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے این ایس جی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کی بھرپور ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ این ایس جی بھارت کی داخلی سلامتی کا سب سے مضبوط ستون ہے اور یہ فورس عالمی سطح پر ایک مثالی ’زیرو ایرر فورس‘ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ امت شاہ نے واضح کیا کہ بدلتے ہوئے دہشت گردی کے طریقوں اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔
این آئی ڈی ایم ایس کے آغاز سے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سمیت دیگر تفتیشی اور سیکورٹی اداروں کو ایک طاقتور تکنیکی پلیٹ فارم دستیاب ہوگا۔ یہ نظام نہ صرف ماضی کے حملوں کے پیٹرن اور طریقۂ واردات کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ وزیر داخلہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ ڈیٹا سینٹر دہشت گردی کے خلاف بھارت کی جنگ میں ایک فیصلہ کن اور تاریخی کردار ادا کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
