مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کی گہماگہمی کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کے ایک بیان نے ریاست ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ لاتور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے ووٹروں کو ایسی صلاح دی جس پر سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
مخالفین پر نشانہ
جلسے کے دوران اسدالدین اویسی نے کہا کہ اگر مخالف سیاسی جماعتیں ووٹ کے بدلے پیسے تقسیم کرتی ہیں تو عوام وہ پیسے لے لیں، لیکن اس رقم کو گھر کے اندر استعمال نہ کریں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس پیسے سے نہ تو راشن خریدا جائے اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں لائی جائیں، بلکہ اس رقم سے گھر کے باہر ایک ٹوائلٹ تعمیر کروایا جائے۔ ان کے اس بیان کو انہوں نے اخلاقی اور سماجی پیغام کے طور پر پیش کیا۔
اویسی نے اپنی تقریر میں مخالف جماعتوں پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج آپ کو پیسے دیے جا رہے ہیں تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ میدان میں اے آئی ایم آئی ایم موجود ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مخالف پارٹیوں کا پیسہ عوام کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے اور اسے ناپاک کمائی قرار دیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ایسی رقم کو گھر کے اندر استعمال کرنا مناسب نہیں، اس لیے اسے ٹوائلٹ بنانے جیسے کام میں لگایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ ووٹنگ کے دن صرف پتنگ کے نشان والے بٹن کو دبائیں۔
بیان کا کیا مطلب ہے؟
اویسی کے اس بیان کے کئی سیاسی اور اخلاقی پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے بدعنوانی اور ووٹ خریدنے کی روایت پر نشانہ سادھا ہے، تو دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ ووٹروں کو پیسے لینے کا مشورہ دینا انتخابی ضابطۂ اخلاق کے دائرے میں سوالات کھڑے کرتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایک طرف جذباتی اپیل ہے تو دوسری جانب ایک جارحانہ انتخابی حکمتِ عملی بھی سمجھی جا رہی ہے۔
اپوزیشن اور الیکشن کمیشن پر نظر
اسدالدین اویسی کا یہ ’ٹوائلٹ فارمولا‘ اپوزیشن جماعتوں کو بالکل پسند نہیں آیا ہے۔ کئی لیڈروں نے اسے غیر ذمہ دارانہ بیان قرار دیا ہے۔ اب سب کی نظریں الیکشن کمیشن پر ٹکی ہوئی ہیں کہ آیا وہ اس بیان کا نوٹس لیتا ہے یا نہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مخالف جماعتیں اس سیاسی ’ٹوائلٹ وار‘ کا کس انداز میں جواب دیتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



