نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سے جڑے مبینہ سازش کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں، جبکہ اسی کیس میں نامزد پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ قومی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے معاملات میں عدالت کو خصوصی احتیاط برتنی ہوتی ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس روند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے پیر کے روز سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اگرچہ عمر خالد اور شرجیل امام پانچ برس سے زائد عرصے سے جیل میں بند ہیں، لیکن ان کے خلاف الزامات کی نوعیت اور معاملے کی سنگینی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسے معاملات میں محض طویل قید کو ضمانت کی واحد بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی مسلسل حراست کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی۔ عدالت نے کہا کہ ان ملزمان کے کردار، دستیاب شواہد اور مقدمے کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مشروط آزادی دی جا سکتی ہے۔ ضمانت ملنے کے بعد یہ پانچوں ملزمان جیل سے رہا ہو سکیں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 10 دسمبر کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ دفاعی وکلاء نے دلیل دی تھی کہ ٹرائل شروع ہوئے بغیر ہی ملزمان کو پانچ سال سے زیادہ عرصے تک جیل میں رکھنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔
یہ تمام ملزمان دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کر رہے تھے جس میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، یعنی یو اے پی اے کے تحت درج مقدمے میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ 2020 کے دہلی فسادات کے پیچھے مبینہ ’’بڑی سازش‘‘ سے متعلق ہے۔ یہ فسادات شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران بھڑکے تھے، جن میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ایک طرف سخت اور دوسری طرف متوازن عدالتی رویے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

