ڈھاکہ (بنگلہ دیش): بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا آج علی الصبح ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں دوران علاج انتقال کر گئیں۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری بیان میں اس خبر کی تصدیق کی۔ بیگم خالدہ ضیا کی عمر 80 برس تھی۔ بی این پی کے مطابق، خالدہ ضیا کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے (مقامی وقت) فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوا۔ پارٹی نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر پوسٹس کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’بیگم خالدہ ضیا کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے، فجر کی نماز کے بعد ہوا۔ ہم ان کی مغفرت اور روح کے ابدی سکون کے لیے دعا گو ہیں اور سب سے ان کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘
طویل علالت کے بعد انتقال
بیگم خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ طویل عرصے سے مختلف امراض میں مبتلا تھیں، جن میں دل کی بیماری، ذیابیطس، گٹھیا، جگر کا سیروسس اور گردوں کی پیچیدگیاں شامل تھیں۔ اسی ماہ کے اوائل میں بہتر علاج کے لیے انہیں لندن بھی منتقل کیا گیا تھا۔
اہم سیاسی پس منظر میں انتقال
خالدہ ضیا کا انتقال ایک نہایت اہم سیاسی مرحلے پر ہوا ہے، جب بنگلہ دیش فروری 2026 میں ہونے والے قومی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے اور گزشتہ برس کی جولائی بغاوت کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ ان کے انتقال سے قبل ان کے صاحبزادے اور بی این پی کے سینئر رہنما طارق رحمان کی حالیہ واپسی بھی سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی تھی۔
طارق رحمان کی وطن واپسی
طارق رحمان کو 2007-08 کے دوران گرفتار کیے جانے کے بعد ملک چھوڑنا پڑا تھا اور رہائی کے بعد وہ لندن میں مقیم ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد عوامی لیگ کے دور میں درج کئی مقدمات میں انہیں بری کر دیا گیا، جس کے بعد ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ طارق رحمان گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش پہنچے تھے، جہاں ایئرپورٹ کے قریب پارٹی رہنماؤں اور حامیوں کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا، جسے آئندہ انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے ایور کیئر اسپتال میں اپنی والدہ سے بھی ملاقات کی تھی۔
گزشتہ روز داخل کرایا گیا تھا نامزدگی فارم
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کل ہی کیا گیا تھا۔ پارٹی نے ان کی جانب سے بوگرا-7 حلقے سے نامزدگی فارم داخل کیا تھا۔ خالدہ ضیاء کا نامزدگی فارم جمع کرانے والے پارٹی کے نائب صدر عبدالاول منٹو نے کل کہا تھا کہ اس حلقے کے لیے ایک متبادل امیدوار کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’چونکہ قائد بیمار ہیں، اس لیے ایک اور امیدوار کو منتخب کیا گیا ہے۔ اگر وہ آخری وقت میں الیکشن نہ لڑ سکیں تو دوسرا امیدوار میدان میں اترے گا۔ حالانکہ، اگر خالدہ ضیاء خود میدان میں نہ بھی ہوں تو بھی ان کی جانب سے انتخابی مہم جاری رہے گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

