Bharat Express DD Free Dish

national mourning

بھارت کی جانب سے وزیرمملکت برائے امور خارجہ پبترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر سید عطاء حسنین سرکاری وفد میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید بھی تہران پہنچنے والے نمایاں بھارتیوں میں شامل ہیں۔ تقریب میں جارجیا، عراق، تاجکستان، روس، چین، عمان، لبنان اور فلسطین سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود بھی شریک ہوئے۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 مہم کے دوران ایرانی فٹبال ٹیم ’’میناب 168‘‘ کے نام سے مقابلوں میں حصہ لے رہی ہے اور کھلاڑی اپنی یونیفارم پر سنہری بیجز لگا کر متاثرین کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

حادثے کے فوراً بعد ہندوستانی فضائیہ نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے کورٹ آف انکوائری کے قیام کا حکم دے دیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق فضائیہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پرانے اے این-32 اور آئی ایل-76 طیاروں کی جگہ نئے میڈیم ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹ پروگرام پر بھی غور کر رہی ہے۔

ایرانی سفارتی مشنز نے دنیا بھر میں اسی نوعیت کے تعزیتی انتظامات کیے ہیں، جس سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر عالمی توجہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اجتماعی عزم کے پیغام کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اپنے تعزیتی پیغام میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک سنجیدہ عالم، دوراندیش ادارہ ساز اور ملت کے بے لوث خادم تھے۔ ان کی زندگی فکری دیانت داری، بلند اخلاقی ، دانشمندی اور ایمان و یقین سے عبارت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی پوری زندگی فکر کی آبیاری، اداروں اور افراد کی تشکیل میں صرف کی۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے بھی سابق وزیر اعظم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے خالدہ ضیا کو قوم کی ’’عظیم سرپرست‘‘ اور بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ کی ایک بلند قامت شخصیت قرار دیا۔ 

پارٹی نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر پوسٹس کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’بیگم خالدہ ضیا کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے، فجر کی نماز کے بعد ہوا۔ ہم ان کی مغفرت اور روح کے ابدی سکون کے لیے دعا گو ہیں اور سب سے ان کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘

وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے رایاورم میں پٹاخہ فیکٹری کے حادثے پر افسران سے بات کی۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا: ’’رایاورم کوناسیما ضلع میں میں آگ کے حادثے نے بڑا صدمہ دیا ہے۔ اس المناک حادثے میں متعدد جانوں کا ضیاع انتہائی دکھ کا باعث ہے۔

شیبو سورین کے انتقال سے ہندوستانی سیاست میں قبائلی حقوق کے ایک عظیم علمبردار کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، جنہوں نے اپنے عزم اور جدوجہد سے جھارکھنڈ کی شناخت کو قائم کیا اور قبائلی برادری کو سیاسی خودمختاری کی راہ دکھائی۔

ایئر انڈیا کی پرواز AI 171، جس میں مسافروں اور کیبن کریو سمیت کل 242 افراد سوار تھے، احمدآباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی۔