Urdu Conclave 2026

South Asia politics

بحرہند کے تناظر میں سری لنکا روایتی طور پر بھارت کا اہم شراکت دار رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی ضروریات کی تکمیل، مشکل حالات میں تعاون اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ گزشتہ برس سری لنکا میں آنے والے طوفان کے بعد بھارت نے ’’پڑوسی مقدم‘‘ پالیسی کے تحت فوری امداد فراہم کی تھی، جس سے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔

ڈھاکہ ٹریبیون نے خبر دی ہے کہ جماعت اسلامی نے انتخابی کمیشن، انتخابی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مکمل غیرجانبداری کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں۔ پارٹی نے حکومت سے بھی کہا کہ وہ قانون و نظم قائم رکھے تاکہ واقعی آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ممکن ہو سکیں۔

چین کے اس تازہ دعوے کے بعد ایک بار پھر بحران کے دوران اس کے کردار پر سوال اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ چین پاکستان کا قریبی دفاعی شراکت دار ہے اور اس کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔

طارق رحمان کی بنگلہ دیش آمد کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کے تحت چل رہا ہے۔ ان کی آمد پر بی این پی کی جانب سے بڑے پیمانے پر استقبال اور کارکنوں کی بھاری تعداد میں شرکت کو آئندہ انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔

پارٹی نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر پوسٹس کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’بیگم خالدہ ضیا کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے، فجر کی نماز کے بعد ہوا۔ ہم ان کی مغفرت اور روح کے ابدی سکون کے لیے دعا گو ہیں اور سب سے ان کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے علاقائی استحکام کو بھارت کی سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں امن و استحکام نہ صرف وہاں کے شہریوں بلکہ پورے خطے، خاص طور پر بھارت کی سلامتی کے لیے بے حد ضروری ہے۔

بالین شاہ اور ربی لمچھانے کے درمیان سات نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا ہے، جس کے مطابق ربی لمچھانے پارٹی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے، جبکہ بالین شاہ پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ہوں گے اور ایوان نمائندگان کے انتخابات کے بعد آر ایس پی کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار نامزد کیے جائیں گے۔

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے یقین دہانی کرائی کہ انتخابات آزاد، شفاف اور پرامن ہوں گے اور انہیں یادگار بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حالیہ واقعات سے کچھ مایوسی ضرور ہوئی ہے، مگر حوصلہ برقرار ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

حال ہی میں وزیراعظم مودی نے خالدہ ضیا کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت مدد کے لیے ہر ممکن تعاون پر تیار ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا: ’’ہم دعا گو ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں۔ بھارت ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔‘‘ بی این پی نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے سرکاری بیان میں بھارتی وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ’’خو‌ش نیتی اور انسانی ہمدردی کا اظہار‘‘ قرار دیا۔

ٹرایبیونل کے فیصلہ میں شیخ حسینہ تمام پانچ الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ جولائی–اگست 2024 کی طلبہ تحریک میں مبینہ مظالم کے تناظر میں یہ فیصلہ آیا ہے۔ سابق وزیر داخلہ اور سابق پولیس سربراہ پر بھی پانچ سنگین الزامات ثابت۔