ڈھاکہ (بنگلہ دیش): بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد سیاسی منظرنامے میں توجہ پوری طرح ان کے صاحبزادے طارق رحمان پر مرکوز ہو گئی ہے، جو گزشتہ ہفتے 17 برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تھے۔ طارق رحمان پہلے ہی آئندہ سال فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کر چکے ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بیگم خالدہ ضیا آج علی الصبح ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں دوران علاج 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ بی این پی کے فیس بک بیان کے مطابق ان کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے، نماز فجر کے فوراً بعد ہوا۔
طویل علالت کے بعد انتقال
بیگم خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ وہ طویل عرصے سے دل کی بیماری، ذیابیطس، گٹھیا، جگر کے عارضے اور گردوں کی پیچیدگیوں سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ اسی ماہ انہیں مزید بہتر علاج کے لیے لندن بھی بھیجا گیا تھا۔
طارق رحمان کی واپسی اور سیاسی اہمیت
بیگم خالدہ ضیا کا انتقال ان کے بیٹے طارق رحمان کی وطن واپسی کے چند دن بعد ہوا ہے۔ طارق رحمان کو 2007-08 میں گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں رہائی کے بعد وہ لندن میں مقیم ہو گئے تھے۔ گزشتہ برس شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد عوامی لیگ کے دور میں درج کئی مقدمات میں انہیں بری کر دیا گیا، جس کے بعد ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ طارق رحمان کی بنگلہ دیش آمد کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کے تحت چل رہا ہے۔ ان کی آمد پر بی این پی کی جانب سے بڑے پیمانے پر استقبال اور کارکنوں کی بھاری تعداد میں شرکت کو آئندہ انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
بی این پی میں قیادت کا خلا اور مستقبل کی سمت
اب بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد امکان ہے کہ پارٹی کی قیادت باضابطہ طور پر طارق رحمان کے سپرد کی جائے گی، جب کہ بنگلہ دیش اپنی سیاسی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
این سی پی میں اختلافات، اتحاد پر سوال
قبل ازیں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو طلبہ رہنماؤں کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے بعد وجود میں آئی، آئندہ انتخابات میں ایک مضبوط دعوے دار بن سکتی ہے۔ تاہم، اسلامی قدامت پسند جماعت جماعتِ اسلامی کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر مبنی اتحاد نے پارٹی کے اندر اختلافات کو جنم دے دیا ہے۔ این سی پی کی ایک اہم رہنما تسنیم جارا نے اعلان کیا ہے کہ وہ پارٹی کی امیدواری مسترد کرتے ہوئے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گی۔ انہوں نے فیس بک پوسٹ میں لکھا: ’’میرا خواب تھا کہ میں کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے پارلیمان میں جا کر اپنے حلقے اور ملک کی خدمت کروں، مگر موجودہ حالات کے پیش نظر میں نے کسی بھی جماعت یا اتحاد کی امیدوار کے طور پر الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ اسی طرح این سی پی کی سینئر رہنما سامنتا شرمین نے بھی جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’’ناقابلِ اعتماد اتحادی‘‘ قرار دیا۔
بی این پی کو سیاسی برتری کا امکان
مجموعی طور پر طارق رحمان کی واپسی، بیگم خالدہ ضیا کے انتقال سے پیدا ہونے والا قیادتی خلا اور دیگر سیاسی قوتوں میں بڑھتی ہوئی تقسیم، فروری 2026 کے انتخابات سے قبل بی این پی کے حق میں سیاسی توازن کو نمایاں طور پر جھکا سکتے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے طارق رحمان کو باضابطہ طور پر وزارت عظمیٰ کے چہرے کے طور پر پیش کیے جانے کی صورت میں، یہ پیش رفت انہیں ایک ایسے انتخاب میں سب سے مضبوط امیدوار بنا سکتی ہے جو بنگلہ دیش کی بعد از تحریک سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
