کانگریس کے رکن پارلیمنٹ طارق انور۔
نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کے خاندان میں جاری تنازعے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ طارق انور نے کہا کہ یہ ان کے خاندان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس میں باہر والوں کا دخل دینا مناسب نہیں۔ ان کا خاندان خود معاملے کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ افسوسناک ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے چند ہی دن بعد اندرونی اختلافات کا سامنے آنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن کا کردار حیران کن: طارق
اسمبلی انتخابات کے دوران مہاگٹھ بندھن کی کچھ نشستوں پر ہوئی ’فرینڈلی فائٹ‘ کے بارے میں آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی وجہ ہو سکتی ہے، لیکن کوئی بڑا سبب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار حیران کن رہا ہے۔ انتخاب شروع ہونے سے لے کر اختتام تک جس طرح عوام کے پیسوں کا غلط استعمال ہوا، لوگوں کو ایک طرح سے رشوت دی گئی، ووٹ ٹرانسفر کیے گئے، یہ سب تشویش ناک ہے۔ ہمارا تنظیمی ڈھانچہ اتنا مضبوط نہیں تھا کہ ان کے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکیں۔
’’انتخاب میں ہار کے پیچھے ایک وجہ نہیں‘‘
مہاگٹھ بندھن کی ہار پر بات کرتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ کسی بھی انتخاب میں شکست کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں ہوتی۔ پارٹی کے اندر تال میل کی کمی بھی ایک اہم وجہ تھی۔ آنے والے وقت میں پورے انتخاب کا تجزیہ ہوگا کہ کہاں ہم سے غلطی ہوئی اور کہاں مہاگٹھ بندھن کی کمیاں رہ گئیں۔ پھر یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ انہیں آگے کیسے درست کیا جائے۔
سی ڈی ایس کے بیان پر طارق انور کا رد عمل
چیف آف آرمی اسٹاف (سی ڈی ایس) اُپیندر دویویدی کے بیان پر طارق انور نے کہا کہ بھارت پوری فلم دیکھنا چاہتا تھا، لیکن درمیان میں اس فلم کو وزیر اعظم یا حکومتِ ہند کی جانب سے روک دیا گیا۔ اُس وقت جو ماحول تھا، ہمارے جوان جس طرح آگے بڑھ رہے تھے اور ان کا حوصلہ بلند تھا، یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ہم پی او کے کو واپس لے سکتے تھے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

