Bharat Express DD Free Dish

Mahagathbandhan

بہار راجیہ سبھا انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے آر جے ڈی کے امیدوار کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ پانچ اراکینِ اسمبلی کے ووٹوں سے مہاگٹھ بندھن کی راہ آسان ہو گئی ہے، لیکن اس کے بدلے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی ایک نشست پر ڈیل کی بات سامنے آئی ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف (سی ڈی ایس) اُپیندر دویویدی کے بیان پر طارق انور نے کہا کہ بھارت پوری فلم دیکھنا چاہتا تھا، لیکن درمیان میں اس فلم کو وزیر اعظم یا حکومتِ ہند کی جانب سے روک دیا گیا۔ اُس وقت جو ماحول تھا، ہمارے جوان جس طرح آگے بڑھ رہے تھے اور ان کا حوصلہ بلند تھا، یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ہم پی او کے کو واپس لے سکتے تھے۔

بہار کے انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے ابتدائی جائزے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پارٹی کی سینئر قیادت—راہل گاندھی اور ملییکارجن کھڑگے—نے لالُو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے فون پر بات چیت کی۔

انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے انڈیا الائنس کی ناقص کارکردگی کی بنیادی وجہ اندرونی اختلافات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”جب اتحاد میں شامل پارٹیاں آپس میں ہی مقابلہ کریں گی تو نتائج ایسے ہی آئیں گے۔ بہار میں شکست کی سب سے بڑی وجہ الائنس کی اندرونی کھینچ تان اور بدانتظامی ہے“۔

بہار اسمبلی انتخابات ہمیشہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے پہیلی رہا ہے۔ اوپینین پول اور اصل رزلٹ کے درمیان اکثر بڑا فرق دیکھا گیا ہے۔ 2000 سے 2020 تک ریاست میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہار کے ووٹر اکثر ماہرین کے اندازے کو الٹا ثابت کر دیتے ہیں۔

راشٹریہ جنتا دل کی رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی نے این ڈی اے کے رہنماؤں کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں کہا گیا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے 200 سے زائد سیٹوں پر جیت حاصل کرے گا۔ میسا بھارتی نے کہا، ’’مگر یہاں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے جا رہی ہے‘‘۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بہارالیکشن میں عظیم اتحاد کی حمایت میں کئی انتخابی جلسے کئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے این ڈی اے پر جم کرحملہ بولا ہے۔

حنا شہاب نے کہا کہ ہم لوگ سبھی سماج کو ساتھ لے کرچلنے والے لوگ ہیں۔ اوپروالے پرہمیں پورا بھروسہ ہے، رگھو ناتھ پورکی عوام پربھروسہ ہے، جو بھی ہوگا بہت ہی اچھا ہوگا۔ بہار میں ہماری حکومت بن رہی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ جمعرات کو ہوگی، جس میں ریاست کے 121 اسمبلی حلقوں کے ووٹر 1314 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ اس مرحلے میں 3 کروڑ 75 لاکھ سے زائد ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے، جبکہ کئی بڑے سیاسی چہروں کی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) 160 سے زائد سیٹیں جیتے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام این ڈی اے حکومت کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور بہتر طرزِ حکمرانی سے مطمئن ہیں۔