بہار قانون ساز کونسل کے اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کی 8 نشستوں پر ہونے والے انتخابات سے قبل مہاگٹھ بندھن میں نشستوں کی تقسیم کا معاملہ الجھ گیا ہے۔ کانگریس نے 5 نشستوں پر اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے، جن میں سے 4 نشستوں پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) پہلے ہی اپنے امیدوار میدان میں اتار چکی ہے۔ اس کے بعد کانگریس اور آر جے ڈی کے درمیان ان نشستوں پر براہِ راست مقابلے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کانگریس کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق دربھنگہ ٹیچر سیٹ سے ڈاکٹر مدن موہن جھا، کوسی گریجویٹ سے منوج کمار جیسوال، دربھنگہ گریجویٹ سے رجنی کانت پاٹھک، پٹنہ ٹیچر سے ڈاکٹر سنجے یادو اور پٹنہ گریجویٹ سے ڈاکٹر اسد اللہ خان کو امیدوار بنایا گیا ہے۔
چار نشستوں پر آر جے ڈی اور کانگریس کا براہِ راست مقابلہ
دوسری جانب آر جے ڈی نے پٹنہ ٹیچر سے ڈاکٹر سنجیو کمار سنگھ، پٹنہ گریجویٹ سے دلیپ کمار، کوسی گریجویٹ سے نیتیش کمار اور دربھنگہ گریجویٹ سے انل کمار جھا کو امیدوار بنایا ہے۔ ان چاروں نشستوں پر دونوں اتحادی جماعتوں کے امیدوار میدان میں آنے سے مقابلہ براہِ راست ہوگیا ہے۔ امیدواروں کے انتخاب کو لے کر کانگریس اور آر جے ڈی کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ آر جے ڈی کو اپنے امیدواروں کے نام کا اعلان کرنے سے پہلے کانگریس سے بات چیت کرنی چاہیے تھی۔
انتخابات سے پہلے مہاگٹھ بندھن میں اختلافات
دونوں اتحادی جماعتوں کے الگ الگ امیدوار میدان میں آنے کے بعد این ڈی اے کے لیڈروں نے بھی مہاگٹھ بندھن پر تنقید شروع کردی ہے۔ تاہم انتخابات سے قبل نشستوں کی تقسیم اور امیدواروں کے معاملے پر اتحادی جماعتوں کے درمیان مزید بات چیت کا امکان برقرار ہے۔ بہار قانون ساز کونسل کی ان 8 نشستوں کے لیے 23 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو کی جائے گی۔
6 اکتوبر تک نامزدگی، 16 نومبر کو ختم ہوگا موجودہ ارکان کا دور
انتخابات کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اکتوبر ہے۔ 7 اکتوبر کو کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ ہوگی، جبکہ امیدوار 9 اکتوبر تک اپنا نام واپس لے سکیں گے۔ ان نشستوں پر موجودہ قانون ساز کونسل ارکان کی مدت 16 نومبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ اسی کے پیش نظر 8 نشستوں پر نئے ارکان کے انتخاب کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



