Bharat Express DD Free Dish

Hina Shahab Votes In Siwan Bihar:  ’’یہ شہاب الدین کی وراثت ہے… عوام نے ترقی اوراستحکام کے لئے عظیم اتحاد کولانے کا فیصلہ کرلیا ہے، حنا شہاب نے ووٹنگ کے بعد کیا بڑا دعویٰ

حنا شہاب نے کہا کہ ہم لوگ سبھی سماج کو ساتھ لے کرچلنے والے لوگ ہیں۔ اوپروالے پرہمیں پورا بھروسہ ہے، رگھو ناتھ پورکی عوام پربھروسہ ہے، جو بھی ہوگا بہت ہی اچھا ہوگا۔ بہار میں ہماری حکومت بن رہی ہے۔

Hina Shahab Votes In Siwan Bihar: بہاراسمبلی الیکشن کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔ 11 بجے تک بہار میں 28 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ہے۔ اسی درمیان سیوان کے سابق رکن پارلیمنٹ شہاب الدین کی اہلیہ حنا شہاب نے سیوان کے رگھوناتھ پوراسمبلی حلقہ میں اپنا ووٹ ڈالا اور رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے کے لئے ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں ہماری حکومت بننے جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں سے حنا شہاب کے بیٹے اسامہ شہاب آرجے ڈی کے امیدوار ہیں۔

واضح رہے کہ حنا شہاب 2009 میں سیوان لوک سبھا سیٹ سے آرجے ڈی امیدواررہ چکی ہیں۔ آج انہوں نے فیملی کے اراکین کے ساتھ سیوان کے ووٹنگ سینٹرپہنچیں اورووٹ ڈالا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ بہارمیں ہماری حکومت بن رہی ہے۔

شہاب الدین کا گڑھ رہا ہے سیوان

سیوان حلقہ ہمیشہ سے بہارکے سابق رکن پارلیمنٹ شہاب الدین کا گڑھ رہا ہے۔ شہاب الدین یہاں سے آرجے ڈی کے ٹکٹ پررکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی بنتے رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے کوآرجے ڈی نے یہاں سے ٹکٹ دیا ہے۔ حنا شہاب نے بہاراسمبلی الیکشن سے متعلق مزید کہا کہ بہارکی عوام نے ترقی اوراستحکام کے لئے عظیم اتحاد کو لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ہم لوگ سبھی کوساتھ لے کرچلتے ہیں: حنا شہاب

اسامہ شہاب کی اہلیہ نے مزید کہا کہ ہم لوگ سبھی سماج کو ساتھ لے کرچلنے والے لوگ ہیں۔ اوپروالے پرہمیں پورا بھروسہ ہے، رگھوناتھ پورکی عوام پرمکمل بھروسہ ہے، جوبھی ہوگا بہت ہی اچھا ہوگا۔

اسامہ کی سیٹ پرسہ رخی مقابلہ کا امکان

رگھوناتھ پوراسمبلی سیٹ کے سیاسی حالات کی بات کریں تو یہاں پرسہ رخی مقابلہ ہے۔ ایک طرف جے ڈی یو کے وکاس کمارسنگھ ہیں اور دوسری طرف جن سورج کے راہل کیرتی ہیں۔ 2020 کے اسمبلی الیکشن میں آرجے ڈی نے حنا شہاب کورگھوناتھ پورسیٹ سے ٹکٹ دینے کی پیشکش کی تھی، لیکن حنا شہاب نے انکارکردیا تھا۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھی ہری شنکریادوکی حمایت کی تھی۔

مسلم یادو فیکٹر ہے کافی مؤثر

سیاسی حالات کی بات کریں تویہاں پر2020 میں آرجے ڈی نے جیت درج کی تھی، لیکن اس بارانتخابی حالات الگ ہیں۔ این ڈی اے مسلسل یہاں پرجرائم میں اضافہ ہونے سے متعلق سوال اٹھا رہا ہے اوروہ آرجے ڈی کواس کا ذمہ دارٹھہرا رہا ہے۔ حالانکہ ذات پات کی بات کریں تو یہاں مسلم اوریادوفیکٹرکافی مؤثرہے۔ آرجے ڈی کواس پرکافی بھروسہ ہے اوروہ اسی میں ایک بارپھرجیت تلاش رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read