سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان۔
رامپور: سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو دو پین کارڈ رکھنے کے معاملے میں مجرم پایا گیا ہے۔ رامپور کی عدالت نے پیر کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ کو قصوروار قرار دیا، جس کے بعد دونوں کو سات، سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔
آکاش کمار سکسینہ نے درج کرایا تھا مقدمہ
2019 میں نگر کے ایم ایل اے رہے آکاش کمار سکسینہ نے مقدمہ درج کرایا تھا اور عبداللہ اعظم پر دو پین کارڈ رکھنے کا الزام لگایا تھا۔ فی الحال عبداللہ اعظم اور ان کے والد اعظم خان کو اس معاملے میں سزا سنائی گئی ہے۔
عبداللہ اعظم نے ہائی کورٹ سے کیا تھا رجوع
اس معاملے میں عبداللہ اعظم نے الہ آباد ہائی کورٹ کا بھی رخ کیا تھا، لیکن وہاں سے انہیں کوئی راحت نہیں ملی۔ انہوں نے ہائی کورٹ سے ٹرائل کی کارروائی کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ فریقین کو سننے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور جولائی میں اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
پاسپورٹ معاملے میں بھی عبداللہ کو جھٹکا
اسی ماہ کے آغاز میں پاسپورٹ سے متعلق ایک معاملے میں بھی عبداللہ اعظم کو عدالت سے دھچکا لگا تھا۔ سپریم کورٹ نے پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے فرضی دستاویزات کے استعمال کے الزام میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
عبداللہ اعظم نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس سندریش نے انہیں کوئی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ٹرائل کورٹ پر بھروسہ کیجیے۔ معاملے کو ٹرائل کورٹ میں ہی طے ہونے دیجیے۔ اب جبکہ ٹرائل مکمل ہو چکا ہے، ہم مداخلت نہیں کر سکتے۔‘‘
وہیں، ایک دوسرے معاملے میں گزشتہ ہفتے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان کو عدالت سے راحت ملی۔ پولیس کی جانب سے ان کے خلاف ثبوت پیش نہیں کیے جا سکے، جس کے بعد عدالت نے انہیں بری کر دیا۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اُس وقت کے ایس ڈی ایم صدر پی پی تیواری نے اعظم خان پر اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ درج کرایا تھا، جو عدالت میں زیرِ غور تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

