Urdu Conclave 2026

Bangladesh court sentences Hasina to death: بنگلہ دیش کی عدالت نے معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ پر دی سزائے موت

ٹرایبیونل کے فیصلہ میں شیخ حسینہ تمام پانچ الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ جولائی–اگست 2024 کی طلبہ تحریک میں مبینہ مظالم کے تناظر میں یہ فیصلہ آیا ہے۔ سابق وزیر داخلہ اور سابق پولیس سربراہ پر بھی پانچ سنگین الزامات ثابت۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے پیر کی دوپہر معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو جولائی–اگست 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران مبینہ ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنادی۔ مقامی میڈیا کے مطابق، انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل–1 نے حسینہ کے خلاف تمام پانچ الزامات میں انہیں مجرم قرار دیا۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ، سابق پولیس سربراہ چودھری عبداللہ المامون اور سابق وزیرداخلہ اسدالزماں خان کمال نے جولائی–اگست تحریک کے دوران تشدد اور مظالم کو منظم طور پر انجام دینے میں کردار ادا کیا۔

بھارت میں جلاوطنی کے دوران غیرحاضری میں مقدمہ

عوامی لیگ کی قائد 78 سالہ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور مقدمہ ان کی غیرموجودگی میں چلایا گیا۔ حسینہ 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہوکر نئی دہلی پہنچی تھیں۔ الجزیرہ کے مطابق ٹریبونل نے کہا: ’’ملزم وزیراعظم شیخ حسینہ نے اکسانے، روک تھام یا سزا دینے میں ناکامی کے ذریعے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔‘‘ مزید کہا گیا کہ انہوں نے ’’ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور مہلک اسلحہ استعمال کرنے کے احکامات دے کر ایک اور جرم کیا۔‘‘

فیصلے کی براہ راست نشریات

بنگلہ دیش ٹیلی وژن نے جسٹس غلام مرتضی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کی کارروائی براہ راست نشر کی۔ جسٹس ایم ڈی شفیع العالم محمود اور جج ایم ڈی محیط الحق اعجاز بھی بینچ میں شامل تھے۔ کارروائی دوپہر میں شروع ہوئی۔ سابق پولیس سربراہ چودھری عبداللہ المامون واحد ملزم ہیں جو زیرحراست ہیں۔ انہوں نے اعتراف جرم کرتے ہوئے ریاست کے گواہ بننے کی درخواست دی ہے۔

باقی دونوں ملزمان ’’مفرور‘‘ قرار

شیخ حسینہ اور سابق وزیر داخلہ اسدالزماں خان کمال دونوں کو ’’مفرور‘‘ قرار دے کر مقدمہ عدم موجودگی میں چلایا گیا۔ دونوں اگست 2024 میں حکومت کی معزولی کے بعد بھارت فرار ہوگئے تھے۔ ٹرائیبیونل نے تینوں ملزمان پر: 1,400 افراد کے قتل کے احکامات، تحریک کو کچلنے کے لیے تشدد کی حکمت عملی، ’’مشترکہ مجرمانہ منصوبہ‘‘ (Joint Criminal Enterprise)، ’’سپیریئر کمانڈ ریسپانسبلٹی‘‘ جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

جولائی–اگست 2024 کے مبینہ واقعات:

ڈھاکہ میں احتجاجی مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں

عوامی ہجوم پر ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز سے فائرنگ

طلبا رہنما ابو سعید کا قتل

عشولیہ میں لاشوں کو جلانا

چنکھارپُل میں طالب علموں پر فائرنگ

مقدمے کے فرد جرم کے کاغذات 8,747 صفحات پر مشتمل ہیں جن میں ثبوت، گواہان اور تفصیلات شامل ہیں۔

استغاثہ کی درخواستیں اور متاثرہ خاندانوں کا ردعمل

چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے بتایا کہ استغاثہ نے حسینہ اور اسدالزماں دونوں کے لیے سزائے موت کی درخواست کی تھی۔ ٹریبیونل کے باہر متاثرین کے خاندانوں نے بھی سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا۔ عدالت اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی صبح سے ہی بڑھا دی گئی تھی۔

عوامی لیگ کا ردعمل اور ملک گیر ہڑتال

سابق حکمراں جماعت عوامی لیگ نے فیصلے کے خلاف اتوار اور پیر کے روز ’’مکمل شٹ ڈاؤن‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ عوامی لیگ پر پہلے ہی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ ڈھاکہ سمیت کئی علاقوں میں بم دھماکوں اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔ دفاعی وکیل عامر حسین کے مطابق الزامات ’’جھوٹے اور من گھڑت‘‘ ہیں اور استغاثہ کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں کہ حسینہ نے کسی قتل کا حکم دیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بدامنی کسی ’’علیحدہ گروہ‘‘ نے پیدا کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read