Urdu Conclave 2026

Pakistan Ready For War with India- Khawaja Asif : دہلی دھماکے کے بعد بڑھی پاکستان کی بےچینی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے دی بھارت و افغانستان کو گیدڑ بھبھکی

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہلی دھماکے کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارت اور افغانستان دونوں کو کھلی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”کل تک یہ ایک گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا اور آج وہ اسے غیر ملکی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن ہم دو محاذوں پر لڑنے کے لیے تیار ہیں“۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف۔ (فائل فوٹو)

اسلام آباد: دہلی کے لال قلعے کے قریب ہوئے دہشت گردانہ دھماکے کے بعد پاکستان کی بےچینی میں زبردست اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دہشت گردوں کو پناہ دینے والا پاکستان اب خود دہشت گردی کے نشانے پر ہے۔ اسلام آباد کی ایک عدالت کے احاطے میں حالیہ دنوں میں ہونے والے دھماکے نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کر لی ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستانی قیادت اپنی روایتی روش پر قائم رہتے ہوئے بھارت کو موردِ الزام ٹھہرانے سے باز نہیں آ رہا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہلی دھماکے کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارت اور افغانستان دونوں کو کھلی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ “کل تک یہ ایک گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا اور آج وہ اسے غیر ملکی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن ہم دو محاذوں پر لڑنے کے لیے تیار ہیں”۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان مشرقی سرحد (بھارت کے ساتھ) اور مغربی سرحد (افغانستان کے ساتھ) دونوں پر جنگ کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق، “اللہ نے پہلے راؤنڈ میں ہماری مدد کی تھی اور وہ دوسرے راؤنڈ میں بھی کرے گا”۔

پاکستانی وزیر دفاع کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کے اندر خودکش حملوں اور شدت پسندانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام آباد دھماکے کے بعد عوامی سطح پر خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے الرٹ پر ہیں۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی یہ جارحانہ زبان اس کی اندرونی کمزوریوں اور سیاسی انتشار کو چھپانے کی کوشش ہے۔ افغانستان سے آنے والے حملوں پر قابو نہ پا سکنے اور تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی سرگرمیوں نے اسلام آباد کی حکومت کو کمزور کر دیا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے سخت مؤقف نے پاکستان کی بےچینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کو دوٹوک پیغام دیا تھا کہ “دوشیوں کو بخشا نہیں جائے گا۔” اسی کے بعد بھارتی فوج نے آپریشن سندور کامیابی سے انجام دیا، جس نے پاکستان کے دہشت گرد نیٹ ورکس کو زبردست جھٹکا دیا۔ اب دہلی دھماکے کے بعد بھوٹان سے وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ “جو بھی اس حملے کے پیچھے ہے، اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑا جائے گا۔” ان بیانات کے بعد پاکستان کو اس بات کا واضح اندازہ ہو گیا ہے کہ بھارت کا اگلا قدم کتنا سخت ہو سکتا ہے۔

آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو جس شکست اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کی گونج اب بھی اسلام آباد کے ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔ اسی لیے خواجہ آصف کے بیانات دراصل اسی خوف کی جھلک دکھاتے ہیں۔ ادھر افغانستان کے حوالے سے بھی وزیر دفاع نے ایک متنازعہ بیان دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ “کابل کے حکمران اگر چاہیں تو پاکستان میں دہشت گردی روک سکتے ہیں، لیکن اگر جنگ اسلام آباد تک پہنچ گئی ہے تو یہ کابل کی طرف سے ایک پیغام ہے، جس کا جواب دینے کی پوری صلاحیت پاکستان رکھتا ہے”۔

یہ بیان افغان حکومت کے خلاف کھلی دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں اس نے واضح طور پر دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجو پاکستان کے اندر، بالخصوص پنجاب میں موجود ہیں۔ ویڈیو میں ایک ٹی ٹی پی رکن نے کہا کہ پاکستانی فوج اور حکومت “ظالم” ہیں اور وہ مجاہدین سے لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ٹی ٹی پی کے اس بیان نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو براہِ راست چیلنج کر دیا ہے اور یہ حقیقت ظاہر کر دی ہے کہ اسلام آباد کو دراصل خطرہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read