ریاض میں 14 مئی کو شام کے صدر احمد الشارع سے ملاقات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔(فائل فوٹو/رائٹرز)
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ شام کے عبوری صدر احمد الشرع کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کریں گے، جو گزشتہ 80 برسوں میں کسی شامی صدر کا امریکہ کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ عرب نیوز چینل ’’الجزیرہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز سمجھی جا رہی ہے۔
’امریکہ اور شام کے درمیان نیا باب کھلے گا‘ — شامی وزیر خارجہ
بحرین میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا، ’’صدر احمد الشرع نومبر کے آغاز میں وائٹ ہاؤس میں ہوں گے۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے کیونکہ اس سے قبل آٹھ دہائیوں سے کوئی شامی صدر امریکہ نہیں آیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے ایجنڈے میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، سفارتی تعلقات کی بحالی اور دو طرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے جیسے امور شامل ہیں۔
داعش مخالف امریکی اتحاد میں شمولیت کا امکان
الجزیرہ نے بتایا کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بیراک نے تصدیق کی ہے کہ صدر الشرع اس دورے کے دوران ایک معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کے تحت شام امریکہ کی قیادت والے داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہو جائے گا۔ احمد الشرع نے دسمبر میں بشار الاسد سے اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی طاقتوں سے تعلقات بحال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے مئی میں سعودی عرب میں ہونے والی خلیجی تعاون کونسل کی کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی کی تھی، جو 25 سال بعد دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔
اقوام متحدہ میں خطاب، عالمی سطح پر واپسی کی کوشش
ستمبر میں صدر الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شام کے عالمی سفارتی حلقے میں واپسی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق وہ ماضی میں القاعدہ کے شامی دھڑے کے سربراہ رہ چکے ہیں، لیکن بعد میں اس تنظیم سے الگ ہو گئے اور داعش کے خلاف لڑائی میں شامل ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دہائی قبل ان کے سر پر امریکہ نے 10 ملین ڈالر انعام مقرر کیا تھا اور وہ عراق جنگ کے دوران امریکی فوج کی قید میں بھی رہ چکے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی کوششیں
صدر الشرع کا مجوزہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے بعد مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی نئی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق شام اور اسرائیل کے درمیان بھی مذاکرات جاری ہیں، جن میں اسرائیلی فضائی حملوں کے خاتمے اور شمالی شام سے اسرائیلی فوجی انخلا پر بات چیت ہو رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
