اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک مقامی لیڈر نے وزیرِ مملکت برائے توانائی سویمندر تومر کے نام کا استعمال کرتے ہوئے ایک تاجر پر سرعام تشدد کیا اور اسے پولیس کے سامنے سڑک پر ناک رگڑنے پر مجبور کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور آخرکار پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔
واقعہ ہفتے کی رات اس وقت پیش آیا جب ستیم رستوگی، جو شاستری نگر کے ڈی بلاک کے رہائشی ہیں، اپنے ایک دوست کے ہمراہ تیزگڑھی کے قریب واقع ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے۔ انہوں نے وزیر سویمندر تومر کے دفتر کے سامنے کار پارک کی، جس پر بی جے پی کسان مورچہ کے ضلعی نائب صدر وِکُل چپرانہ سے تلخ کلامی ہو گئی۔ بات بگڑتے بگڑتے مار پیٹ تک جا پہنچی اور موقع پر پولیس بھی پہنچ گئی۔
پولیس کے سامنے ہی ناک رگڑنے پر کیا مجبور
پولیس کی موجودگی میں وِکُل چپرانہ اور اس کے ساتھیوں نے ستیم رستوگی کو سڑک پر ناک رگڑنے اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ ملزم کا دعویٰ تھا کہ ستیم نے وزیرِ توانائی کے خلاف “غیر شائستہ الفاظ” استعمال کیے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ طول پکڑ گیا اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے اس واقعے پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر حکومت پر طنز کیا۔
دیگر دو ساتھیوں کی تلاش جاری
ابتدائی طور پر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن عوامی دباؤ اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ستیم کی شکایت پر وِکُل چپرانہ اور اس کے دو ساتھیوں کے خلاف مار پیٹ، جان سے مارنے کی دھمکی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے وِکُل چپرانہ کو گرفتار کر کے تھانے لائے، لیکن بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ دیگر دو افراد کی شناخت کے لیے ویڈیو کا تجزیہ جاری ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
اسپیشل پولیس آفیسر آیوش وکرم سنگھ کے مطابق، “کار پارکنگ کے تنازعے پر ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ متاثرہ کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں”۔ دوسری جانب، وزیر توانائی سویمندر تومر نے اس واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “وِکُل چپرانہ میرا نمائندہ نہیں ہے اور قانون کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔ ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے”۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


