Urdu Conclave 2026

India Reacts to Saudi-Pak Defence Pact: پاکستان اور سعودی کے درمیان دفاعی معاہدے پر ہندوستان نے کہی یہ بات، جانیے وزارت خارجہ نے کیا کہا

اس دوران پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی سعودی عرب کو ’’دستیاب‘‘ ہوگا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا کہ اسے توقع ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے دوران بھارت اور سعودی عرب کے باہمی مفادات اور حساسات کو پیش نظر رکھے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ’’بھارت اور سعودی عرب کے درمیان ایک وسیع اور مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے، جو پچھلے کچھ برسوں میں نمایاں طور پر گہری ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس شراکت داری کے تحت باہمی مفادات اور احساسات کو اہمیت دی جائے گی۔‘‘

یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب ایک صحافی نے ان سے بدھ کے روز پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دستخط شدہ دفاعی معاہدے کے بارے میں سوال کیا۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر جارحیت دونوں ممالک پر حملہ تصور کی جائے گی۔ جمعرات کو بھارت نے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کے ممکنہ سیکیورٹی اثرات کا مطالعہ کر رہا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ ’’ہم اس پیش رفت کے بھارت کی قومی سلامتی، خطے اور عالمی استحکام پر اثرات کا بغور جائزہ لیں گے۔ حکومت بھارت کے قومی مفادات کے تحفظ اور ہمہ جہتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

وہیں ایک سینئر سعودی عہدیدار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک یا صورت حال کے خلاف نہیں بلکہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طویل المدتی تعاون کی ادارہ جاتی شکل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے بھارت کے ساتھ تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور ہم ان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ یہ معاہدہ قطر میں عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے مشترکہ اجلاس کے دو دن بعد سامنے آیا، جس کا انعقاد 9 ستمبر کو قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس دوران پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی سعودی عرب کو ’’دستیاب‘‘ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان بھارت سمیت عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read