بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحت‘ میں راجیہ سبھا کے سابق رکن شاہد صدیقی کا کلیدی خطبہ۔
نئی دہلی: بھارت ایکسپریس اردو کی جانب دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں منگل (16 ستمبر) کی شام اردو کے ممتاز صحافی مولوی محمد باقر کی یاد میں ایک شاندار تقریب ’بزمِ صحت‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں سابق وزیر خارجہ اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سلمان خورشید، قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ کمیشن (این سی ایم ای آئی) کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر، جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ, سینئر بی جے پی لیڈر اور ایم پی جگدمبیکا پال اور راجیہ سبھا کے سابق رکن اور سینئر صحافی شاہد صدیقی سمیت کئی بڑی شخصیت شامل ہوئیں۔ اس موقع پر شاہد صدیقی نے بھارت ایکسپریس کو مولوی محمد باقر کی یاد میں تقریب منعقد کرنے کے لیے مبارکباد پیش کی۔
آزاد صحافت کے علامت بن چکے ہیں مولوی محمد باقر
انہوں نے مولوی محمد باقر کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اردو کے صحافی نہیں بلکہ آزاد صحافت کے علامت بن چکے ہیں۔ دنیا میں اگر آزاد صحافت کی بات ہوگی، بنیادی مقاصد کی بات ہوگی، ایک صحافی کی ذمہ داریوں کی بات ہوگی تو مولوی محمد باقر ایک ایسی علامت بن کر ابھریں گے جن کی شخصیت میں ایک صحافی کی جو تمام خوبیاں ہونی چاہئے، وہ آکے مکمل ہو جاتی ہیں۔ انہوں کہا کہ ایک صحافی کے قلم سے جو جنگ آزادی کی بنیاد پڑی تھی، وہ اردو صحافت کے ذریعہ لڑی گئی۔ ہندوستان میں کوئی دوسری زبان نہیں تھی جو پورے ملک کو جوڑتی ہو، کشمیر سے لے کر کنیاکماری تک تمل ناڈو کے وانیمباڑی اور آمبور تک اگر کوئی زبان تھی، جس میں لالہ لاجپت رائے اپنی بات کہنا چاہتے تھے، سردار بھگت سنگھ اپنی بات کہنا چاہتے تھے تو کس زبان کے ذریعہ کہتے تھے، انگریزی کے ذریعہ نہیں، یہ کہتے ہیں لنگاوا فرینکا انگریزی تھی نہیں، لنگاوا فرینکا کل بھی اردو تھی آج بھی اردو ہے اور اس کے ذریعہ آزادی کی تحریک بنی، پنپی اور آگے بڑھی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں سب کو متحد کیا اور یہی وجہ تھی کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ یا مولانا محمد علی جوہر کا ’کامریڈ‘ اور دوسرے اخبار جو نکلے اردو کے، انہوں نے جنگ آزادی کا جوش و جذبہ بھرا، کیونکہ انگریزی اور ہندی کے صحافی چاٹوکار تھے کل بھی آج بھی، وہ حکومت وقت کے گود میں کل بھی تھے آج بھی ہیں۔ یہ اردو صحافی تھا جو لڑائی لڑ رہا تھا اور یہ مولوی محمد باقر نے جو بنیاد رکھی تھی اپنے خون سے، اپنے لہو سے، یہ اس کا نتیجہ تھی۔

آزاد ہندوستان میں اردو کے صحافیوں کا زبردست کردار
راجیہ سبھا کے سابق رکن نے آزادی کے بعد اردو صحافت کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’آزاد ہندوستان میں بھی اردو کے صحافیوں کا زبردست کردار ہے ہندوستان کو بنانے میں، ہندوستان کی تعمیر میں۔ آزادی کے بعد بھی اردو کے صحافیوں سے ضمانت طلب کی گئی۔ پہلا اردو اخبار، جس سے ضمانت طلب کی گئی اور اخبار بند ہوا ضمانت کی وجہ سے، وہ نئی دنیا اخبار تھا۔‘‘ انہوں کہا کہ یہ مت سمجھئے کہ جنگ جو 15 اگست 1947 کو ختم ہوگئی، بند ہو گئی، اس کے بعد بھی جاری تھی، جاری ہے۔ اور یہ جنگ اردو اخبارات نے لڑی۔

اردو اخبارات میں ایک آدمی چار لوگوں کا کرتا ہے کام
سینئر صحافی شاہد صدیقی نے اردو کے صحافیوں سے کہا کہ دوسری زبانوں کے صحافیوں کے مقابلے آپ زیادہ محنت کرتے ہیں، زیادہ بہتر صحافت کرتے ہیں، زیادہ مشکل حالات میں کرتے ہیں زیادہ پریشانیوں میں کرتے ہیں، کم وسائل کے ساتھ کرتے ہیں۔ دوسری زبانوں کے مقابلے آپ بہتر صحافت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ احساس کمتری کا شکار ہیں، اردو صحافت کو نیچا دیکھتے ہیں، اردو صحافی کو نیچا دیکھتے ہیں، اردو صحافت کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ اردو صحافی کن دقتوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اردو اخبارات کے جو مالکان ہیں ان کو میں جانتا ہوں۔ اس مالک کو بھی کتنے صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کتنی اس کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اردو اخبارات میں ایک ایک آدمی چار چار لوگوں کا کام کرتا ہے، جہاں جو کام دوسری زبانوں میں چار آدمی کرتے ہیں اردو اخبارات میں وہ ایک آدمی اکیلے کرتا ہے اور پریشر لیتا ہے۔ اس کے باوجود بہترین صحافت کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


